ہوم » نیوز » مشرقی ہندوستان

عجیب وغریب! لڑکی نے ایک لڑکی اور لڑکے دونوں سے کرلی شادی، پولیس کا بھی ماتھا چکرایا

بیگو سرائے پولیس (Begusarai Police) کے لئے یہ عجیب وغریب معاملہ ہے، جس میں کہ ایک لڑکی نے ایک لڑکی اور ایک لڑکے سے شادی کرلی ہے۔

  • Share this:
عجیب وغریب! لڑکی نے ایک لڑکی اور لڑکے دونوں سے کرلی شادی، پولیس کا بھی ماتھا چکرایا
عجیب وغریب! لڑکی نے ایک لڑکی اور لڑکے دونوں سے کرلی شادی

بیگو سرائے: محبت اور شادی کا ایک عجیب وغریب معاملہ سامنے آنے کے بعد بیگو سرائے پولیس (Begusarai Police) خود حیران ہے۔ اس کا مرکزی نقطہ ایک لڑکی ہے، جس نے اپنا عاشق بتاکر دوسری لڑکی سے ہی شادی کرلی، لیکن، اہل خانہ کے دباو میں اس لڑکی کا پھر ایک لڑکے سے شادی کر دی گئی۔ اب شادی کے 15 دن کے اندر ہی لڑکی کی عاشق دوسری لڑکی سسرال پہنچ گئی اور ساتھ رہنے کی ضد کرنے لگی ہے۔ معاملے کو الجھتا دیکھ کر لڑکے کے اہل خانہ نے شہر تھانے میں اس کی شکایت کی تب پولیس دونوں لڑکیوں کو لے کر تھانے چلی آئی۔ اب ایک طرف جہاں پولیس اس معاملے میں کارروائی کے لئے قانون کے التزام کی تلاش کر رہی ہے، تو وہیں پولیس یہ بھی سوچنے کو مجبور ہے کہ کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے۔


پوری کہانی فلموں کی طرح ضرور لگ رہی ہے، لیکن یہ ہے پوری حقیقت۔ یہ کہانی جہاں ایک طرف معاشرہ میں پنپ رہے ہم جنس پرستانہ تعلقات کے بڑھتے اثر کو واضح کر رہی ہے۔ تو وہیں بچوں کے تئیں سرپرستوں کی لاپرواہی بھی سامنے آرہی ہے۔ دراصل، پورا معاملہ جھارکھنڈ ریاست کے چترا ضلع سے متعلق ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق، چترا میں ہی دو لڑکی انوجا کماری اور پرینکا ورما (دونوں تبدیل شدہ نام) کسی مال میں کام کرتی تھی۔ دھیرے دھیرے دونوں میں دوستی ہوئی اور یہ پیار میں بدل گیا۔ اس کے بعد پوجا نے پرینکا ورما کو لڑکا مان کر اس سے شادی کرلی تھی اور شوہر کے طور پر قبول کرلیا۔


دو سالوں تک ساتھ رہنے کا دعویٰ کر رہے ہیں دونوں


دو سالوں تک چلے اس بے میل بندھن کے بعد انوجا کے اہل خانہ نے اس کی شادی بیگو سرائے ضلع کے پٹیل چوک باشندہ سمت کمار (بدلا ہوا نام) سے کردی۔ انوجا کماری نے بتایا کہ اہل خانہ کے ذریعہ زبردستی شادی کرائی گئی تھی۔ اس شادی کے بعد انوجا نے سمت کمار کو اپنے ہم جنس پرست ساتھی کے تعلقات کے بارے میں سب کچھ بتا دیا۔ الزام ہے کہ شادی کے وقت سمت اور اس کے اہل خانہ کے ذریعہ کوئی اعتراض نہیں کیا گیا اور سمت نے کہا کہ تم اگر اس کے ساتھ بھی رہتی ہو تو مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔

واضح رہے کہ 14 جون کو ہی انوجا اور سمت کی شادی ہوئی تھی، لیکن اب سمت کے ذریعہ انوجا سے کہا گیا کہ وہ پرینکا ورما سے دوری بنا لے۔ اس بات کی اطلاع انوجا نے پرینکا کو دی۔ اس کے پرینکا اپنی ہم جنس پرستانہ ساتھی سے ملنے بیگو سرائے آپہنچی اور انوجا کے ساتھ ہی اس کے سسرال میں رہنے کی ضد کرنے لگی۔ معاملے کو الجھتا دیکھ کر سمت کے اہل خانہ نے شہر تھانے میں اس کی شکایت کی۔ شکایت ملتے ہی شہر تھانے کی پولیس انوجا اور پرینکا کو ساتھ لے کر تھانے چلی آئی۔

ساتھ رہنے کی ہے دونوں کی ضد

انوجا کے مطابق، وہ پرینکا ورما کو لڑکی نہیں لڑکا مانتی ہے اور اسے شوہر کے طور پر قبول کرچکی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ پرینکا ورما کے ساتھ ہی رہنے کی ضد پر اڑی ہوئی ہے۔ وہیں، انوجا کی ہم جنس پرست ساتھی پرینکا نے بتایا کہ وہ بھی انوجا کے بغیر نہیں رہ سکتیں۔ دونوں نے ایک دوسرے سے دل سے پیار کیا اور شادی کی ہے۔ اب دونوں اپنی مرضی سے ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کی ضد کر رہی ہیں۔ پرینکا ورما کے مطابق، 2 سال پہلے ہی ان  دونوں میں پیار ہوا تھا اور دونوں نے شادی بھی کرلی تھی اور ساتھ رہ رہے تھے۔

عجیب وغریب معاملے کا حل تلاش رہی ہے پولیس

بیگو سرائے پولیس کے لئے یہ عجیب وغریب معاملہ ہے، جس میں کہ ایک لڑکی نے ایک لڑکی اور اور ایک لڑکے سے شادی کی ہے۔ شہر تھانہ کے پولیس عہدیدار سنتوش ورما نے بتایا کہ شکایت ملنے کے بعد پولیس نے انہیں اپنی سیکورٹی میں تھانے ضرور لے آئی ہے، لیکن اب پولیس بھی اس معاملے میں قانونی کارروائی کے لئے قانون کی کتابوں میں حل تلاش کر رہی ہے۔ دیکھا جائے تو بڑے شہروں کے لئے یہ عام بات ہوسکتی ہے، لیکن بیگو سرائے جیسے شہر کے لئے یہ عجیب وغریب معاملہ ہے۔ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا پرینکا اور انوجا کا ساتھ رہنے کا خواب کامیاب ہوتا ہے۔
First published: Jun 26, 2020 10:17 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading