உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Udaipur Murder Case: ملزمین کی جے پور کورٹ میں پیشی کے دوران پٹائی، کپڑے پھاڑے

     ادے پور قتل سانحہ کے چاروں ملزمین کی وکیلوں نے جے پور کورٹ سے نکلتے وقت پٹائی کردی۔

    ادے پور قتل سانحہ کے چاروں ملزمین کی وکیلوں نے جے پور کورٹ سے نکلتے وقت پٹائی کردی۔

    Udaipur Murder Case: ادے پور قتل سانحہ کے چاروں ملزمین کی وکیلوں نے جے پور کورٹ سے نکلتے وقت پٹائی کردی۔ ملزمین کی کسی بھی وکیل نے پیروی نہیں کی۔ پیشی سے واپس اجمیر جیل لے جاتے وقت وکیلوں کا غصہ پھوٹ پڑا اور انہوں نے ملزمین کی پٹائی کردی۔

    • Share this:
      جے پور: ادے پور قتل سانحہ کے چاروں ملزمین کو جے پور کورٹ سے نکلتے وقت وکیلوں نے جم کر پیٹا۔ ملزمین کی کسی بھی وکیل نے پیروی نہیں کی۔ چاروں ملزمین کو این آئی اے نے عدالت میں پیش کیا۔ واپس اجمیر جیل لے جاتے وقت وکیلوں کا غصہ ملزمین پر پھوٹ پڑا۔ انہوں نے چاروں ملزمین کی پٹائی کردی۔

      عدالت میں پیش کرنے سے پہلے ملزمین کو لے کر پولیس ٹیم، اے ٹی ایس کے اسپیشل آپریشن گروپ (ایس اوجی) کے دفتر میں پہنچا۔ این آئی اے نے اے ٹی ایس سے سبھی دستاویزی ثبوت جمع کئے۔ اس کے بعد کنہیا لال قتل کے دو اہم ملزمین محمد ریاض اتاری، غوث محمد اور ان کے ساتھی آصف اور محسن سمیت چاروں ملزمین کو این آئی اے اور اے ٹی ایس کی ٹیم نے عدالت میں پیش کیا۔ سیکورٹی اسباب سے عدالت اور شہر کے علاقوں میں اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی تھی۔



      ادے پور قتل سانحہ کی جانچ جیسے جیسے آگے بڑھ رہی ہے ہر روز نئے نئے اور بے حد حیران کرنے والے انکشاف ہو رہے ہیں۔ قاتل گرفتار ہوچکے ہیں اور ان سے پولیس کی پوچھ گچھ مسلسل جاری ہے، جس میں ہر روز نئی نئی باتیں سامنے آرہی ہیں۔ کچھ ایسے ہی نئے سوال سامنے آئے ہیں، جنہوں نے سبھی کو حیران کردیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      صحافی محمد زبیر کو بڑا جھٹکا، ضمانت عرضی خارج، 14 دنوں کی عدالتی حراست میں بھیجا

      پولیس کی پوچھ گچھ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ جس طرح کے خطرناک خنجر یہ دونوں قاتل ویڈیو میں دکھا رہے ہیں، ٹھیک ویسے ہی دو خنجر اور بنائے گئے تھے۔ آخر دونوں قاتلوں نے قتل کرنے کے بعد جو ویڈیو بنایا… اس کو شوٹ کون کر رہا تھا؟ آخر کون تھا جو ویڈیو بنانے میں ان قاتلوں کی مدد کر رہا تھا؟ ان سوالوں کے جواب پولیس تلاش رہی ہے۔

      پولیس کی پوچھ گچھ میں یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ ان دونوں یعنی آصف اور محسن نے بھی خنجر لیا ہوا تھا۔ یعنی کل ملاکر چار خنجر کنہیا لال کے قتل کے لئے بنائے گئے تھے۔ دو خنجر ریاض اور غوث محمد کے پاس تھا اور دو خنجر آصف اور محسن کے پاس تھے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: