உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Udaipur Murder Case:این آئی اے نے کہا-واردات میں دہشت پھیلانے والے گروہ کا ہاتھ، قاتلوں سے 14 دن تک ہوگی پوچھ تاچھ

    اُدئے پور قتل معاملے کے ملزمین کو لے کر این آئی اے نے کیا بڑا انکشاف۔

    اُدئے پور قتل معاملے کے ملزمین کو لے کر این آئی اے نے کیا بڑا انکشاف۔

    این آئی اے سے ملی اطلاع کے مطابق قتل کے دونوں ملزمین سے راجستھان میں ہی پوچھ تاچھ کی جائے گی۔ این آئی اے کی ٹیم انہیں دہلی نہیں لائے گی۔ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کنہیا لال کے قتل میں نہ صرف ریاض اور غوث محمد ملوث ہیں بلکہ قتل کے منصوبے میں ملزمان کے گروہ کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔

    • Share this:
      Udaipur Murder Case:این آئی اے نے راجستھان کے ادے پور میں کنہیا لال کا بے دردی سے قتل کرنے والے قاتلوں کو جمعرات کو عدالت میں پیش کیا۔ این آئی اے نے دونوں ملزمین کے ریمانڈ کی مانگ کی تھی۔ سماعت کے بعد عدالت نے ملزمین ریاض عطاری اور غوث محمد کو 13 جولائی تک جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ یعنی دونوں 14 دن کے ریمانڈ پر ہوں گے۔ اس دوران ان سے باریک بینی سے پوچھ تاچھ کی جائے گی۔ اس سے قبل ملزمین کی عدالت میں پیشی کے دوران وکلا نے شدید نعرے بازی کی۔

      ریاض عطاری اور غوث محمد کی پروڈکشن کے حوالے سے پولیس الرٹ تھی۔ عدالت میں ان کی سیکیورٹی کے لیے 500 پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے۔ اس کے ساتھ انتظامیہ کے پانچ اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔ پولیس کو خدشہ ہے کہ عدالت میں پیشی کے دوران ان پر حملہ کیا جا سکتا ہے۔ جس کی وجہ سے عدالت کی سکیورٹی سخت کر دی گئی۔ جیسے ہی دونوں قاتل عدالت پہنچے تو تقریباً 250 وکلاء کے ہجوم نے نعرے بازی شروع کردی۔ اس دوران بھارت ماتا کی جئے اور قاتلوں کو پھانسی دو جیسے نعرے لگائے گئے۔


      یہ بھی پڑھیں:
      Alert in UP:اُدئے پور واقعہ کے بعد آج نماز جمعہ،یوپی پولیس الرٹ،159 کمپنی پی اے سی تعینات

      یہ بھی پڑھیں:
      Madhya Pradesh: ایم پی کی مسلم قیادت کو نشانہ بنانے پر شروع ہوئی اویسی کی مخالفت

      راجستھان میں ہی ہوگی پوچھ تاچھ
      این آئی اے سے ملی اطلاع کے مطابق قتل کے دونوں ملزمین سے راجستھان میں ہی پوچھ تاچھ کی جائے گی۔ این آئی اے کی ٹیم انہیں دہلی نہیں لائے گی۔ تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ کنہیا لال کے قتل میں نہ صرف ریاض اور غوث محمد ملوث ہیں بلکہ قتل کے منصوبے میں ملزمان کے گروہ کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ این آئی اے کی ابتدائی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس قتل میں کوئی دہشت گرد تنظیم ملوث نہیں ہے لیکن دہشت پھیلانے والا گروہ اس میں ملوث ہوسکتا ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: