உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Uddhav Thackrayکی اب نہیں بچے گی کرسی!لیکن ان تین متبادل سے طئے ہوگا مہاراشٹر حکومت کا مستقبل

    Youtube Video

    شیوسینا کے اندر بغاوت کی وجہ سے مہاراشٹر کی اودھو ٹھاکرے حکومت پر خطرے کے بادل منڈلارہے ہیں۔ سی ایم ٹھاکرے نے کہا کہ وہ پارٹی کے ایم ایل ایز کو اپنا استعفیٰ سونپنے کے لئے تیار ہیں، جو اسے راج بھون لے جاسکتے ہیں۔

    • Share this:
      Maharashtra Politicial Crisis:مہاراشٹر کی سیاست میں گھمسان کے درمیان اودھو حکومت پر بحران کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ تازہ ترین معلومات کے مطابق شیوسینا کے کل 55 ایم ایل اے میں سے صرف 16 ایم ایل اے سی ایم ٹھاکرے کے کیمپ میں ہیں۔ ایسے میں پارٹی میں کھلبلی مچی ہوئی ہے۔ اس دوران ایم ایل ایز کے ساتھ ساتھ اب ایم پی بھی ایکناتھ شندے کی حمایت میں آتے دکھائی دے رہے ہیں۔ دوسری طرف شیوسینا کے باغی لیڈر ایکناتھ شندے کے گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں 49 ایم ایل ایز کی حمایت حاصل ہے۔

      مہاراشٹر میں فی الحال جس طرح کے حالات پیدا ہوئے ہیں اس سے اودھو ٹھاکرے کی کرسی جانا طئے نظر آرہا ہے، لیکن ابھی بھی اودھو ٹھاکرے کے پاس تین متبادل ہیں جس سے مہاراشٹر حکومت کا مستقبل بچایا جاسکتا ہے۔

      پہلا آپشن-ایکناتھ کھڑسے کو سی ایم بنادے
      شیوسینا کے باغی ایم ایل اے جس طرح سے ایکناتھ شندے کی حمایت کر رہے ہیں،اس کے ساتھ ہی ادھو ٹھاکرے کے سامنے کرسی کے سامنے پارٹی اور اقتدار کو بچانے کا چیلنج کھڑا ہو گیا ہے۔ دوسری طرف ایم ایل اے کے باغی رویہ کو دیکھتے ہوئے ایک آپشن سامنے یہ نظر آتا ہے کہ ادھو ٹھاکرے ایکناتھ شندے کو سی ایم کا عہدہ دے دیں۔ اگر شندے کو وزیر اعلیٰ بنایا جاتا ہے تو شیوسینا کو درپیش یہ سیاسی بحران ٹل جانے کا امکان ہے۔

      تاہم بدھ کو ایکناتھ شندے نے ایک ٹویٹ میں کانگریس اور این سی پی کے ساتھ شیوسینا کے اتحاد کو غیر فطری قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ اس اتحاد سے نکلنا ضروری ہے۔ دوسری طرف شیوسینا کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی کا نظریہ کانگریس-این سی پی سے کسی بھی طرح سے میل نہیں کھاتا۔

      دوسرا متبادل- شیوسینا، بی جے پی سے ہاتھ ملا لے
      شیوسینا سے باغی ہوئے ایم ایل ایز کا ماننا ہے کہ کانگریس-این سی پی اور شیو سینا دو مختلف نظریات کی جماعتیں ہیں۔ باغی ایم ایل اے اور شندے اس اتحاد کو توڑنے کے حق میں ہیں۔ ایسے میں ادھو ٹھاکرے کے سامنے ایک آپشن یہ بھی ہے کہ وہ کانگریس-این سی پی سے اتحاد توڑ کر بی جے پی سے ہاتھ ملا لے۔

      تیسرا متبادل- ایکناتھ شندے شیوسینا توڑنے میں کامیاب ہوجائیں
      ایکناتھ شندے باغی تیور اختیار کرتے ہوئے شیوسینا کو کانگریس-این سی پی کے ساتھ اتحاد توڑنے، بی جے پی کے ساتھ حکومت بنانے کا آپشن دے رہے ہیں۔ ایسے میں اگر ایکناتھ شندے شیوسینا کو توڑنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو بی جے پی کے ساتھ ہاتھ ملانے کا آپشن موجود ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      مہاراشٹر سیاسی بحران: ادھو ٹھاکرے نے چھوڑ دیا سی ایم ہاوس، سامان لےکر ماتوشری پہنچے

      یہ بھی پڑھیں:
      Maharashtra Political Crisis: ادھو ۔ پوار کی ملاقات میں شندے کو سی ایم کا عہدہ دینے پر غور

      شیوسینا کے اندر بغاوت کی وجہ سے مہاراشٹر کی اودھو ٹھاکرے حکومت پر خطرے کے بادل منڈلارہے ہیں۔ سی ایم ٹھاکرے نے کہا کہ وہ پارٹی کے ایم ایل ایز کو اپنا استعفیٰ سونپنے کے لئے تیار ہیں، جو اسے راج بھون لے جاسکتے ہیں۔ یہی نہیں انہوں نے کہا کہ اگر شیوسینا کے کارکن چاہتے ہیں تو وہ پارٹی سربراہ کا عہدہ بھی چھوڑنے کے لئے تیار ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: