உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ادھو ٹھاکرے کے ’دوستی‘ والے بیان سے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کو پھر ملی ہوا! شیو سینا کو دینی پڑی صفائی

    ادھو ٹھاکرے کے ’دوستی‘ والے بیان سے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کو پھر ملی ہوا! شیو سینا کو دینی پڑی صفائی

    ادھو ٹھاکرے کے ’دوستی‘ والے بیان سے بی جے پی کے ساتھ اتحاد کو پھر ملی ہوا! شیو سینا کو دینی پڑی صفائی

    Uddhav Thackeray News: مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی رکن پارلیمنٹ راو صاحب دانوے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ پرانے دوست اور اب کے دوست ایک ساتھ آئے تو ایک نئی دوستی بن سکتی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:

      ممبئی: شیو سینا سربراہ اور مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ ادھو ٹھاکرے کے اس بیان پر مہاراشٹر میں سیاسی گھمسان تیز ہوگیا ہے، جس میں انہوں نے اورنگ آباد میں ’مراٹھواڑہ مکتی سنگرام دن‘ پر جمعہ کو منعقدہ ایک تقریب کے دوران اپنے ساتھ اسٹیج پر بیٹھے بی جے پی رکن پارلیمنٹ اور مرکزی وزیر راو صاحب دانوے کو ہاتھ دکھاتے ہوئے کہا تھا کہ پرانے دوست اور اب کے دوست ایک ساتھ آئے تو ایک نئی دوستی بن سکتی ہے۔ کانگریس لیڈر اور مہاراشٹر حکومت میں وزیر اسلم شیخ نے کہا کہ سیاست میں کچھ بھی ممکن ہے، ’چلی تو شام تک نہیں چلی تو شام تک‘۔ ادھو ٹھاکرے کے بیان پر این سی پی لیڈر اور حکومت میں وزیر چھگن بھجبل بھی ردعمل ظاہر کرنے سے نہیں رکے۔ انہوں نے کہا کہ سیاست میں نظریاتی طورپر اختلاف ہوسکتا ہے، لیکن سیاست میں سبھی دوست ہیں۔


      حالانکہ ادھو ٹھاکرے کے بیان کے بہانے ریاست کے سابق وزیراعلیٰ اور مخالف پارٹی کے لیڈر دیویندر فڑنویس کو مہا وکاس اگھاڑی حکومت پر تنقید کرنے کا موقع مل گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ادھو ٹھاکرے کو اب پتہ چل گیا ہے کہ غلط لوگوں کے ساتھ اتحاد میں ہیں، سیاست میں کچھ بھی ہوسکتا ہے، لیکن ابھی فی الحال ہم اپوزیشن کے کردار میں ہیں اور ہم اپوزیشن کے طور پر لوگوں کی آواز اٹھاتے رہیں گے۔




      مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو مہا وکاس اگھاڑی حکومت پر تنقید کرنے کا موقع مل گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ادھو ٹھاکرے کو اب پتہ چل گیا ہے کہ غلط لوگوں کے ساتھ اتحاد میں ہیں۔
      مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو مہا وکاس اگھاڑی حکومت پر تنقید کرنے کا موقع مل گیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ادھو ٹھاکرے کو اب پتہ چل گیا ہے کہ غلط لوگوں کے ساتھ اتحاد میں ہیں۔

      وہیں شیو سینا رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے ادھو ٹھاکرے کے بیان پر بی جے پی کے ردعمل سے متعلق ان پر طنز کستے ہوئے کہا، ’بی جے پی اگر خوش رہتی ہے تو خوش رہنے دو۔ ان کی زندگی میں بھی کبھی خوشی کبھی غم آتے ہیں۔ دو سال تک غم تھا، ابھی خوشی رہے گی، خوش رہنے دو۔ ہمارے پرانے دوست ہیں، وہ خوش رہے تو ہم خوش رہیں گے۔ اپوزیشن والے ہمیشہ خوش رہنے چاہئے۔ بات ایسی ہے کہ ادھو ٹھاکرے جی نے کیا کہا ہے، ان کا بیان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیا ممکنہ حکومت، ان کا کہنے کا مطلب ہے کہ بی جے پی کے کچھ لوگ بی جے پی میں آسکتے ہیں، ہم لوگ کہیں چھوڑ کر نہیں جائیں گے۔ بی جے پی کے لوگ کہیں گے، ہمیں سابق وزیر مت کہئے، یہ چندر کانت پاٹل کا بیان ہے، وہ جن کو سابق کہنے سے اعتراض ہے وہ تینوں پارٹی میں سے کسی میں بھی جاسکتے ہیں‘۔


       شیو سینا رکن پارلیمنٹ سنجے راوت نے مزید کہا، ’بی جے پی کے کچھ لوگ مہا وکاس اگھاڑی میں آسکتے ہیں۔ دانوے صاحب ہمارے دوست ہیں اور وزیر مملکت برائے ریلوے ہیں۔ مہاراشٹر کے بہت سارے کام ریلوے میں پینڈنگ (زیر التوا) ہیں۔ انہیں وزیر اعلیٰ نے بلایا ہے، تو ملنا چاہئے۔ دانوے جی میرے پڑوسی ہیں۔ وہ مجھ سے بھی ملتے ہیں۔ ٹھیک ہے دیویندر فڑنویس کی بات میں سن رہا تھا، لیکن ایک بات صاف ہے چاہے کوئی کچھ بھی بولے، من میں کسی کے بھی لڈو پھوٹے، لیکن مہا وکاس اگھاڑی کا لڈو ہم پانچ سال تک کھاتے رہیں گے۔ ابھی 40 گھنٹے پورے ہوگئے، آئندہ 8 گھنٹے میں کیا ہوگا کونسا زلزلہ آئے گا، میں دیکھ رہا ہوں‘۔


      سنجے راوت نے کہا، ’میں نے آج صبح کہا ہے کہ میری جانکاری ہے جو چندر کانت دادا نے کہا ہے کہ مجھے سابق مت کہئے، میری جانکاری ہے کہ ان کو دہلی سے آفر ہے، ناگا لینڈ کے گورنر بنانے کا۔ یہ ان کے اوپر ہے کہ وہ جاتے ہیں یا نہیں جاتے۔ ابھی تین سال کا وقت بچا ہے، یہی حکومت ادھو ٹھاکرے جی کی قیادت میں تین سال پورے کرے گی۔ کسی کے اوپر کسی کا دباو نہیں ہے۔ ہم تینوں جماعتیں ایک ساتھ رہیں گے اور ایک ساتھ کام کریں گے‘۔

      Published by:Nisar Ahmad
      First published: