உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آدھار ٹیکنالوجی کی بیرون ملک میں بھی مانگ! UIDAI عالمی بینک اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کرے گا کام

    گرگ نے کہا کہ UIDAI رجسٹرڈ ڈیوائسز کے ذریعے چہرے کی شناخت کر رہا ہے

    گرگ نے کہا کہ UIDAI رجسٹرڈ ڈیوائسز کے ذریعے چہرے کی شناخت کر رہا ہے

    ’’ہم عالمی بینک اور اقوام متحدہ جیسی بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر یہ دیکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ ہم ان کی کس طرح مدد کر سکتے ہیں۔ آدھار کے تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک قسم کا ڈیجیٹل بین الاقوامی معیار قائم کیا جائے گا‘‘۔

    • Share this:
      ایک سینئر اہلکار نے بتایا ہے کہ یونیک آڈینٹیفکیشن آتھارٹی (UIDAI) عالمی بینک اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر دوسرے ممالک میں بھی اسی طرح کے کارڈ کے لیے کام کر رہی ہے۔ یو آئی ڈی اے آئی کے سی ای او سوربھ گرگ نے یہ بھی کہا کہ اتھارٹی مختلف شعبوں کے لیے اندراج، تصدیق، کسٹمر ریلیشن شپ مینجمنٹ، اور دیگر کے لیے ایک مشاورتی بورڈ تشکیل دے رہی ہے۔

      انھوں نے کہا کہ ’’ہم عالمی بینک اور اقوام متحدہ جیسی بین الاقوامی تنظیموں کے ساتھ مل کر یہ دیکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں کہ ہم ان کی کس طرح مدد کر سکتے ہیں۔ آدھار کے تجربے کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک قسم کا ڈیجیٹل بین الاقوامی معیار قائم کیا جائے گا۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ ڈیجیٹل آرکٹیکچر کی مدد سے آدھار آرکٹیکچر کو دوسرے ممالک میں نقل کیا جا سکتا ہے‘‘۔

      وہ پیمنٹس کونسل آف انڈیا کی جانب سے منعقدہ ایک ورچوئل تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ گرگ نے مزید کہا کہ UIDAI ہندوستان سے مزید شراکت داروں کا انتظار کر رہا ہے جو آدھار ٹیکنالوجی کو بیرون ملک لے جانے میں اس کی مدد کر سکتے ہیں۔

      گرگ نے کہا کہ آدھار ماحولیاتی نظام میں ہمیں احساس ہوا کہ ہمیں یو آئی ڈی اے آئی کے اندرونی نظام سے باہر دوسروں کے ساتھ شراکت داری کرنے کی ضرورت ہے۔ ماضی میں ہمارے پاس صنعت سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔ ہم اندراج، اپ ڈیٹس کی تصدیق، کسٹمر ریلیشن شپ مینجمنٹ، ویب سائٹ ڈیزائن کے لیے مختلف شعبوں کے لیے ایک مشاورتی بورڈ تشکیل دے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ UIDAI فنگر پرنٹ اور ایرس کے علاوہ متبادل بائیو میٹرکس پر کام کر رہا ہے۔

      انہوں نے کہا کہ انگلی کے علاوہ، ہمارے پاس پہلے سے ہی ایرس موجود ہے لیکن ایرس استعمال کرنا زیادہ بوجھل ہے اور اس کے لیے خصوصی آلات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے ہم مناسب احتیاط کے ساتھ چہرے کی تصدیق پر زور دے رہے ہیں۔ گرگ نے کہا کہ UIDAI رجسٹرڈ ڈیوائسز کے ذریعے چہرے کی شناخت کر رہا ہے لیکن یہ تلاش کر رہا ہے کہ کیا صارف اسے اپنے موبائل آلات سے کر سکتے ہیں۔

      قومی، بین الااقوامی، جموں و کشمیر کی تازہ ترین خبروں کے علاوہ  تعلیم و روزگار اور بزنس  کی خبروں کے لیے  نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔ 

      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: