ہوم » نیوز » وطن نامہ

شمالی ہندوستان میں یو کے ویریئنٹ کے معاملات زیادہ ، مہاراشٹر ، گجرات ، کرناٹک میں ڈبل میوٹینٹ کیسز : این سی ڈی سی سربراہ

Coronavirus Cases in India: ڈبل میوٹینٹ ویریئنٹ جس کو B.1.617 کے طور پر بھی جانا جاتا ہے کہ زیادہ معاملات مہاراشٹر ( 762) ، مغربی بنگال ( 124) ، دہلی (107) اور گجرات میں ( 102) ہیں ۔

  • Share this:
شمالی ہندوستان میں یو کے ویریئنٹ کے معاملات زیادہ ، مہاراشٹر ، گجرات ، کرناٹک میں ڈبل میوٹینٹ کیسز : این سی ڈی سی سربراہ
شمالی ہندوستان میں یو کے ویریئنٹ کے معاملات زیادہ ، مہاراشٹر ، گجرات ، کرناٹک میں ڈبل میوٹینٹ کیسز : این سی ڈی سی سربراہ

نئی دہلی : ملک بھر میں کورونا وائرس کے معاملات تیزی سے بڑھ رہے ہیں ۔ اب یہ بات سامنے آئی ہے کہ جس کے مطابق موجودہ وقت میں کورونا وائرس کے یوکے اسٹرین کے معاملات شمالی ہندوستان میں سامنے آرہے ہیں جبکہ ڈبل میوٹینٹ ویریئنٹ کے معاملات زیادہ تر مہاراشٹر ، کرناٹک اور گجرات میں پائے جارہے ہیں ۔ نیشنل سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول ( این سی ڈی سی ) کے ڈٓائریکٹر سجیت سنگھ نے بدھ کو یہ جانکاری دی ۔ حالانکہ انہوں نے کہا کہ SARS CoV-2 ( یوکے ویریئنٹ ) کا B1.1.7 ویریئنٹ گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں ملک بھر میں کم رہا ہے ۔


پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ B.1.1.7 ( یوکے میوٹینٹ ) کے پنجاب میں 482 نمونے ، دہلی میں 516 کیس سمیت شمالی ہندوستان کے کچھ حصوں میں پھیل رہا ہے ۔ اس کے بعد تلنگانہ میں 192 ، مہاراشٹر میں 83 کیس اور کرناٹک میں 82 کیسز ہیں ۔ سنگھ نے کہا کہ دسمبر سے دس اعلی سرکاری لیباریٹریز اور ادارے کورونا وائرس کے جینوم کی سیکویسنگ کر رہے ہیں ۔ اب تک 18053 نمونوں کی جانچ کی جاچکی ہے ۔


ریاستوں کو دی جارہی ہیں ہدایات


انہوں نے کہا کہ جینوم سیکویسنگ پر جانکاری فروری میں دو مرتبہ ، مارچ اور اپریل میں چار بار شیئر کی گئی ہیں ۔ سنگھ نے ریاستوں کے ساتھ ویڈیو کانفرنسنگ میں کہا کہ وزارت صحت نے ویریئنٹس اور اور نئے میوٹینٹ کی موجودہ صورتحال کے بارے میں جانکاری دی اور اس نے پبلک ہیلتھ کو بڑھانے پر زور دیا ۔

ڈبل میوٹینٹ ویریئنٹ جس کو B.1.617 کے طور پر بھی جانا جاتا ہے کہ زیادہ معاملات مہاراشٹر ( 762) ، مغربی بنگال ( 124) ، دہلی (107) اور گجرات میں ( 102) ہیں ۔ جنوبی افریقی ویریئنٹ ۔۔۔۔ اہم طور پر تلنگانہ اور دہلی میں پایا گیا ہے ۔ اس کے برازیلین ویریئنٹ ( پی ون ) کا صرف مہاراشٹر میں ایک نمونہ میں پایا گیا تھا ۔

سنگھ نے کہا کہ سبھی ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام خطوں میں وزارت صحت اور این سی ڈی سی کے ذریعہ ویریئنٹ پر لگاتار تحریری طور پر چرچا ہورہی ہے ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: May 06, 2021 12:00 AM IST