உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اترپردیش میں مذہبی مقامات سے ہٹائے گئے 47ہزار لاؤڈاسپیکر، عید کو لے کر انتظامیہ الرٹ

    یوپی میں ہزاروں لائوڈاسپیکر مذہبی مقامات سے اتروائے گئے۔

    یوپی میں ہزاروں لائوڈاسپیکر مذہبی مقامات سے اتروائے گئے۔

    Loudspeaker Row: قابل ذکر ہے کہ 27 اپریل کی رات کو ویڈیو کانفرنسنگ کے دوران وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے لاؤڈ اسپیکر کے تعلق سے مؤثر کارروائی کرنے کے لیے افسران کو سخت ہدایات دی تھیں اور ساتھ ہی کسی بھی نئی جگہ پر لاؤڈ اسپیکر لگانے پر پابندی لگا دی تھی۔

    • Share this:
      Loudspeaker Row:لکھنو: مذہبی مقامات پر نصب لاؤڈ اسپیکرز کے خلاف جاری کارروائی ہفتہ کو بھی جاری رہی۔ پولیس نے اب تک ریاست میں 47 ہزار 473 سے زیادہ لاؤڈ اسپیکرز کو اتروایا ہے اور 59 ہزار سے زیادہ لاؤڈ اسپیکروں کی آواز کو کم کیا گیا ہے۔ ہائی کورٹ کے حکم کے تحت، محکمہ داخلہ نے 23 مارچ کو ریاست میں آواز کی آلودگی (ریگولیشن اینڈ کنٹرول) رولز-2000 کی دفعات کی سختی سے تعمیل کرنے کی ہدایت دی تھی۔

      ایڈیشنل چیف سکریٹری، ہوم اونیش کمار اوستھی نے تمام ڈویژنل کمشنروں اور پولیس کمشنروں سے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں کی گئی کارروائی کی رپورٹ 30 اپریل تک حکومت کو فراہم کریں۔ جس کے بعد ریاست میں لاؤڈ اسپیکر کے خلاف جنگی بنیادوں پر کارروائی کی گئی۔ مقامی انتظامیہ اور پولیس نے مذہبی رہنماؤں سے بات کرنے کے بعد یہ عمل پرامن طریقے سے کیا ہے۔ جمعہ کو 15000 لاؤڈ سپیکر ہٹا دیے گئے تھے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Hanuman Chalisa Row:مذہب کے نام پرہورہی سیاست،مہنگائی-بے روزگاری پرنہیں ہورہی بات: شردپوار

      ہفتہ کو بھی 10 ہزار سے زائد لاؤڈ اسپیکر ہٹائے گئے اور لاؤڈ اسپیکر کا والیوم کم کرنے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ اب تک کی گئی کارروائی کی رپورٹ آج اتوار کو حکومت کو پیش کی جا سکتی ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Uniform Civil Code:اسدالدین اویسی نے کہا’مسلموں کو کوئی پنچنگ بیگ نہیں سمجھ سکتا

      قابل ذکر ہے کہ 27 اپریل کی رات کو ویڈیو کانفرنسنگ کے دوران وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے لاؤڈ اسپیکر کے تعلق سے مؤثر کارروائی کرنے کے لیے افسران کو سخت ہدایات دی تھیں اور ساتھ ہی کسی بھی نئی جگہ پر لاؤڈ اسپیکر لگانے پر پابندی لگا دی تھی۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی ہدایات کے بعد اتر پردیش میں مذہبی مقامات سے لاؤڈ سپیکر ڈائون کردئیے گئے ہیں یا ان کی آواز معمول کے مطابق کم کر دی گئی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: