اے پی اسمبلی کے فرنیچرکی چوری کا الزام: سابق اسپیکرکوڈیلہ سیواپرساد راکی مشتبہ حالت میں موت

آندھراپردیش اسمبلی کے سابق اسپیکر کوڈیلہ سیواپرساد راکی مشتبہ حالت میں موت ہوگئی۔وہ تلگودیشم پارٹی کے سینئر لیڈر تھے۔ان کو آج 11.30بجے دن حیدرآباد کے بسواتارکماں انڈو۔امریکن کینسر اسپتال منتقل کیاگیا تھا۔اسپتال کے سینئر ڈاکٹرس نے بتایا کہ انہوں نے سینئر سیاستداں کو ہوش میں لانے کی کوشش کی۔

Sep 16, 2019 06:24 PM IST | Updated on: Sep 16, 2019 06:24 PM IST
اے پی اسمبلی کے فرنیچرکی چوری کا الزام: سابق اسپیکرکوڈیلہ سیواپرساد راکی مشتبہ حالت میں موت

سابق اسپیکرکوڈیلہ سیواپرساد راکی مشتبہ حالت میں موت۔(تصویر:فائل فوٹو،نیوز18)۔

آندھراپردیش کے سابق اسپیکر کوڈیلہ سیواپرساد راکی مشتبہ حالت میں موت ہوگئی۔وہ تلگودیشم پارٹی کے سینئر لیڈر تھے۔ان کو آج 11.30بجے دن حیدرآباد کے بسواتارکماں انڈو۔امریکن کینسر اسپتال منتقل کیاگیا تھا۔اسپتال کے سینئر ڈاکٹرس نے بتایا کہ انہوں نے سینئر سیاستداں کو ہوش میں لانے کی کوشش کی۔ان کی ایک گھنٹہ کی کوششیں ناکام رہیں جس کے بعد ڈاکٹرس نے 12بجکر39منٹ پر ان کو مردہ قرار دیا۔

بتایاجاتا ہے کہ سابق اسپیکر نے اپنے مکان میں پھانسی لے لی۔ان کو دیکھ کر ان کے قریبی ساتھیوں نے ان کو علاج کے لئے اسپتال منتقل کیا۔جب ان کو ہوش میں لانے کی تمام کوششیں ناکام رہیں تو ڈاکٹرس نے ان کومردہ قرار دیا۔ان کی لاش کو اسپتال سے پوسٹ مارٹم کے لئے عثمانیہ اسپتال منتقل کیا گیا۔بعد ازاں ان کی لاش کو ان کے آبائی ضلع گنٹور لے جایا جائے گا۔تلنگانہ کےوزیراعلی کے چندرشیکھر راو نے ان کی موت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور ان کے غمزدہ ارکان خاندان سے تعزیت کا اظہارکیا۔

Loading...

پولیس نے بتایا کہ ان کے مکان کے کمرہ میں جہاں انہوں نے پھانسی لی، پنکھے کا ایک راڈموڑاہوا ہے جس سے خودکشی کا شبہ کیا جارہا ہے تاہم پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ہی موت کی حتمی وجہ بتائی جاسکتی ہے۔پولیس نے کہا کہ ان کے بیٹے نے کہاکہ گزشتہ چنددنوں سے وہ تناو کے شکار تھے۔اطلاع ملتے ہی پولیس بنجاراہلز میں واقع ان کے مکان پہنچی۔پولیس نے ایک معاملہ اس سلسلہ میں درج کرلیا۔

ڈی سی پی سرینواس نے بتایا کہ ان کے ارکان خاندان کا کہنا ہے کہ انہوں نے پھانسی لی ہے تاہم موت کی اصل وجہ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے بعد سامنے آئے گی۔انہوں نے کہاکہ رات میں گھر میں کسی سے بھی ان کا جھگڑا نہیں ہوا ہے۔ان کی موت کی اطلاع پران کے حامیوں کی بڑی تعداد اسپتال پہنچی اورانکی موت کے صدمے میں نعرے بازی کرنے لگی۔ حامیوں کو قابومیں کرنے کے لئے پولیس کو جدوجہد کرنی پڑی۔

ان کی موت کی اطلاع پر اے پی کے ضلع گنٹور کے ان کے آبائی مقام کلاکنٹلہ میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ ریاست میں وائی ایس آرکانگریس کے برسراقتدارآنے کے بعد ان پراسمبلی کے فرنیچرکی چوری کا الزام بھی لگاتھا۔ کوڈیلہ،اسمبلی کے لئے چھ مرتبہ رکن بنے۔2014سے 2019تک وہ اسپیکر رہے۔اپوزیشن بی جے پی نے بھی ان کی موت پرگہرے دکھ کا اظہار کیا۔اپنے بیان میں تلنگانہ بی جے پی ترجمان کرشناساگرراؤ نے کہا کہ ان کی موت افسوسناک ہے۔

Loading...