اپنا ضلع منتخب کریں۔

    کیا مرکزی حکومت پورے ملک میں یونیفارم سول کوڈ لانے پر غور کر رہی ہے؟ حکومت نے دیا یہ جواب

    Uniform Civil Code: لاء کمیشن نے فیملی لا میں سدھار سے متعلق اپنی ویب سائٹ پر لوگوں سے ان کی رائے طلب کی ہے۔ اس قانون میں یونیفارم سول کوڈ سے متعلق زیادہ تر موضوع شامل ہیں۔

    Uniform Civil Code: لاء کمیشن نے فیملی لا میں سدھار سے متعلق اپنی ویب سائٹ پر لوگوں سے ان کی رائے طلب کی ہے۔ اس قانون میں یونیفارم سول کوڈ سے متعلق زیادہ تر موضوع شامل ہیں۔

    Uniform Civil Code: لاء کمیشن نے فیملی لا میں سدھار سے متعلق اپنی ویب سائٹ پر لوگوں سے ان کی رائے طلب کی ہے۔ اس قانون میں یونیفارم سول کوڈ سے متعلق زیادہ تر موضوع شامل ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: مرکزی حکومت نے کہا کہ پورے ملک میں یونیفارم سول کوڈ لانے کا ان کا فی الحال کوئی خیال نہیں ہے، لیکن ریاستی حکومتیں ایسا قانون لانے کے لئے آزاد ہیں۔ مرکزی حکومت کی طرف سے وزیر قانون کرن رججو نے جمعہ کو پارلیمنٹ میں ایک سوال کے جواب دیتے ہوئے یہ واضح کیا کہ مرکزی حکومت فی الحال پورے ملک میں یونیفارم سول کوڈ لانے پر کوئی غور نہیں کر رہی ہے۔

      انہوں نے بتایا کہ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ سپریم کورٹ میں اس بابت کئی معاملے التوا میں ہیں اور ایسے میں مرکزی حکومت نے یونیفارم سول کوڈ نافذ کرنے کے لئے کوئی فیصلہ نہیں لیا ہے۔ اس کے علاوہ وزیر قانون نے یہ بھی جانکاری دی کہ آئین کے مطابق ریاستی حکومت کو اپنی طرف سے یونیفارم سول کوڈ اپنی ریاست میں نافذ کرنے کا پورا اختیار ہے۔

      لاء کمیشن نے فیملی لا میں سدھار کو لے کر اپنی ویب سائٹ پر لوگوں سے ان کی رائے مانگی ہے۔ اس قانون میں یونیفارم سول کوڈ سے متعلق زیادہ تر موضوع شامل ہیں۔ مرکزی حکومت کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے، جبکہ اتراکھنڈ حکومت ریاست میں یونیفارم سول کوڈ کو نافذ کرنے پر تیزی سے کام کر رہی ہے۔ گزشتہ 14 جولائی کو ہی اتراکھنڈ میں یونیفارم سول کوڈ کا مسودہ تیار کرنے کے لئے تشکیل خصوصی کمیٹی کی دوسری میٹنگ نئی دہلی میں اختتام ہوئی۔

      سرکاری ذرائع نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی ریٹائرڈ جج رنجنا پرکاش دیسائی کی صدارت میں تشکیل کمیٹی کی میٹنگ میں دیگر اراکین نے بھی حصہ لیا اور کامن سول کوڈ ضابطہ کے مختلف پہلووں پر بحث کی۔ میٹنگ میں ماہرین نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کیا کہ یکساں سول کوڈ کا مسودہ جلد تیار کرکے ریاستی حکومت کو سونپ دیا جائے گا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: