ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اقلیتوں کی توقعات پرپورا نہیں اترا عام بجٹ، اقلیتی امور کی وزارت میں 219 کروڑ روپئے کی کٹوتی

معاشی بدحالی، کورونا وبا، ملک کی گرتی ہوئی جی ڈی پی، معیشت کی سست رفتار جی ایس ٹی میں کمی کی وجہ سے حکومت کی آمدنی میں کمی واقع ہونے کا ملک کے عام بجٹ پرشدید اثر پڑا ہے۔ عام آدمی پر مزید ٹیکس کا بوجھ ڈالا گیا، انکم ٹیکس پر راحت کو لے کر بھی بجٹ میں کوئی ذکر نہیں ہے، جس سے صاف ہے کہ بے روزگار ی کے درمیان غریب اور متوسط طبقے کو فی الحال کوئی راحت ملنے والی نہیں ہے۔

  • Share this:
اقلیتوں کی توقعات پرپورا نہیں اترا عام بجٹ، اقلیتی امور کی وزارت میں 219 کروڑ روپئے کی کٹوتی
اقلیتوں کی توقعات پرپورا نہیں اترا عام بجٹ

نئی دہلی: معاشی بدحالی، کورونا وبا، ملک کی گرتی ہوئی جی ڈی پی، معیشت کی سست رفتار جی ایس ٹی میں کمی کی وجہ سے حکومت کی آمدنی میں کمی واقع ہونے کا ملک کے عام بجٹ پرشدید اثر پڑا ہے۔ عام آدمی پر مزید ٹیکس کا بوجھ ڈالا گیا، انکم ٹیکس پر راحت کو لے کر بھی بجٹ میں کوئی ذکر نہیں ہے، جس سے صاف ہے کہ بے روزگاری کے درمیان غریب اور متوسط طبقے کو فی الحال کوئی راحت ملنے والی نہیں ہے۔ساتھ ہی مرکزی وزارت اقلیتی امور کے بجٹ میں 219 کروڑ کی براہ راست بجٹ کٹوتی کی گئی ہے، جس سے ملک کی 21 فیصد آبادی کے لئے فلاحی اسکیموں کا دائرہ وسیع کرنے کی کوئی گنجائش نہیں بچی ہے، اگرچہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے ذریعہ ون نیشن ون راشن کارڈ، ریل گاڑی میں نئے آرام دہ کوچوں، آدرش اسکولوں کے قیام جیسے بہت سے نئے اعلانات بھی کئے گئے تھے۔ تاہم پٹرول ڈیژل پر زراعتی ٹیکس لگایا گیا ہے، جس سے صاف ہے کہ ضروریات کی چیزیں مزید مہنگی ہوں گی، لیکن اگر صرف وزارت اقلیتی امور کی بات کی جائے تو مہنگائی بے روزگاری کو مدنظر رکھتے ہوئے اقلیتوں کی حکومت سے بڑی امیدیں وابستہ تھیں۔ تاہم اقلیتی طبقہ کی امیدوں پر بجٹ پورا نہیں اترا اور وزارت اقلیتی امورکا بجٹ 219 کروڑ روپئے کم ہوکر 4810 کروڑ روپئے رہ گیا ہے۔


مختار عباس نقوی نے بجٹ میں کی گئی کمی پر سوال کے جواب میں کہا ہے کہ گزشتہ سال بھی بجٹ پانچ ہزار کروڑ تھے اور اس بار بھی تقریبا اتنا ہی ہے ملک کے موجودہ حالات کے مدنظر تھوڑی کمی ضرور ہوئی ہے، لیکن وہ تمام میدانوں میں کمی ہوئی ہے۔
مختار عباس نقوی نے بجٹ میں کی گئی کمی پر سوال کے جواب میں کہا ہے کہ گزشتہ سال بھی بجٹ پانچ ہزار کروڑ تھے اور اس بار بھی تقریبا اتنا ہی ہے ملک کے موجودہ حالات کے مدنظر تھوڑی کمی ضرور ہوئی ہے، لیکن وہ تمام میدانوں میں کمی ہوئی ہے۔


حالانکہ گزشتہ سال یہ بجٹ 5029 کروڑ روپئے تھا، گرچہ نظر ثانی بجٹ گزشتہ سال کم کرکے چار ہزارکروڑ روپئے کردیا گیا تھا۔ وزارت کی اسکالر شپ اسکیم کو سب سے کامیاب اسکیم مانی جاتی ہے، اس کے پری میٹرک بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے اور پری میٹرک اسکالرشپ بجٹ میں 48 کروڑ کااضافہ کرتے ہوئے پری میٹرک اسکالرشپ بجٹ 1330 سے 1378کروڑ ہوگیا ہے، لیکن پوسٹ میٹرک اسکالرشپ بجٹ میں کم کی گئی ہے، اس اسکیم کے بجٹ میں 67 کروڑ روپئے کم کردیئے گئے تھے، حالانکہ یہ پہلے ہی محض 535 ہی تھے اور اس اسکیم کا بجٹ 468 کروڑ رہ گیا ہے، اسی طرح میرٹ کم مینس اسکالرشپ کے بجٹ میں بھی 75 کروڑ کی کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ بجٹ 400 کروڑ سے 325 کروڑ رہ گیا ہے۔ نیز اعلی تعلیم کے لئے دی جانے والی اسکالر شپ اسکیم مولانا آزاد فیلوشپ کے بجٹ میں بھی 76 کروڑ کی کمی ہوئی اور بجٹ 175 کروڑ سے کم ہوکر صرف 99 کروڑ کر دیا گیا ہے۔ حالانکہ وزیر اعظم جن وکاس پروگرام کے تحت اس بار کروڑ روپئے رکھے گئے ہیں 1390کروڑ روپئے رکھے گئے جبکہ حال ہی میں وزارت میں لائی گئی مدرسہ ٹیچر جدید کاری اسکیم کیلئے بھی 174کروڑ روپئے رکھے گئے ہیں۔ البتہ مفت کوچنگ اسکیم کا بجٹ 50 کروڑ سے بڑھا کر 79کروڑ روپئے کردیا گیا ہے۔


 وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے ذریعہ ون نیشن ون راشن کارڈ، ریل گاڑی میں نئے آرام دہ کوچوں، آدرش اسکولوں کے قیام جیسے بہت سے نئے اعلانات بھی کئے گئے تھے۔
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے ذریعہ ون نیشن ون راشن کارڈ، ریل گاڑی میں نئے آرام دہ کوچوں، آدرش اسکولوں کے قیام جیسے بہت سے نئے اعلانات بھی کئے گئے تھے۔


مختار عباس نقوی نے بجٹ میں کی گئی کمی پر سوال کے جواب میں کہا ہے کہ گزشتہ سال بھی بجٹ پانچ ہزار کروڑ تھے اور اس بار بھی تقریبا اتنا ہی ہے ملک کے موجودہ حالات کے مدنظر تھوڑی کمی ضرور ہوئی ہے، لیکن وہ تمام میدانوں میں کمی ہوئی ہے۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ اقلیتوں کی فلاح بہبود کے لئے وزارت پیسے کی کمی نہیں ہونے دی جائے گی۔

کشمیر اور لداخ کیلئے یونیورسٹی اور گیس پائپ لائن

بجٹ میں بہت سارے بڑے اعلانات ہیں، جیسے جدید کوچ 15000 آدرش اسکول، کشمیر میں گیس پائپ لائن، لداخ میںسینٹرل یونیورسٹی بنائے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ لیکن اسی وقت بہت سی چیزوں پر ٹیکس بڑھا دیا گیا ہے۔ پٹرول ڈیزل پر 4 فیصد زرعی ٹیکس لگانا، الیکٹرانک سامان پر جی ایس ٹی کے علاوہ ڈیوٹی ٹیکس میں اضافہ مستقبل میں مہنگائی لے کر آئے گا، جس کے اثر سے اشیائے خوردونوش سے لے کر الیکٹرانک سامان موبائل سب مہنگا ہوجائے گا۔ دیکھا جائے تو بجٹ میں حکومت کے لئے مشکل مسئلہ پیسے کا انتظام کرنا تھا۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے یہ کام بخوبی کیا اور ضروری صحت، انفراسٹرکچر جیسے میدانو ں میں خرچ کیا ہے۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 01, 2021 10:59 PM IST