உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Union Budget 2022: کل 39.45  لاکھ کروڑ کے بجٹ میں اقلیتی امور کی وزارت کو ملا 5020 کروڑ کا بجٹ

    وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے سال 2023-2022 کا عام بجٹ پیش کرتے ہوئے پری میٹرک اسکالرشپس کا بجٹ 1378 سے بڑھا کر 1425 کروڑ کر دیا جبکہ پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کا بجٹ 468 کروڑ سے بڑھا کر 515 (پانچ سو پندرہ) کروڑ کر دیا گیا۔ جبکہ میرٹ کم مینس اسکالرشپ کا بجٹ 325 تین سو پچیس کروڑ سے بڑھا کر 365 کروڑ کردیا گیا۔ حالانکہ مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ کا بجٹ 99 کروڑ برقرار رہا۔ اس بجٹ میں کوئی کمی یا اضافہ نہیں کیا گیا۔

    وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے سال 2023-2022 کا عام بجٹ پیش کرتے ہوئے پری میٹرک اسکالرشپس کا بجٹ 1378 سے بڑھا کر 1425 کروڑ کر دیا جبکہ پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کا بجٹ 468 کروڑ سے بڑھا کر 515 (پانچ سو پندرہ) کروڑ کر دیا گیا۔ جبکہ میرٹ کم مینس اسکالرشپ کا بجٹ 325 تین سو پچیس کروڑ سے بڑھا کر 365 کروڑ کردیا گیا۔ حالانکہ مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ کا بجٹ 99 کروڑ برقرار رہا۔ اس بجٹ میں کوئی کمی یا اضافہ نہیں کیا گیا۔

    وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے سال 2023-2022 کا عام بجٹ پیش کرتے ہوئے پری میٹرک اسکالرشپس کا بجٹ 1378 سے بڑھا کر 1425 کروڑ کر دیا جبکہ پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کا بجٹ 468 کروڑ سے بڑھا کر 515 (پانچ سو پندرہ) کروڑ کر دیا گیا۔ جبکہ میرٹ کم مینس اسکالرشپ کا بجٹ 325 تین سو پچیس کروڑ سے بڑھا کر 365 کروڑ کردیا گیا۔ حالانکہ مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ کا بجٹ 99 کروڑ برقرار رہا۔ اس بجٹ میں کوئی کمی یا اضافہ نہیں کیا گیا۔

    • Share this:
    نئی دہلی: ملک کی وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے سال 2023-2022 کا عام بجٹ پیش کیا۔ 39 لاکھ 45 ہزار کروڑ کے بھاری بھرکم بجٹ میں بہت سے بڑے بڑے اعلان کیے گئے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن کی جانب سے بجٹ کو آئندہ کے 25 سالوں کے لئے بلو پرنٹ قرار دیا گیا۔ عام آدمی کے لئے راحت کی بات رہی کہ حکومت کی جانب سے کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا۔وزارت اقلیتی امور کے بجٹ میں بھی اضافہ کیا گیا، حالانکہ گزشتہ سال بجٹ میں کمی کی گئی تھی۔ اسکالرشپ اسکیموں کا بجٹ بڑھایا گیا۔ موجودہ بجٹ میں اقلیتوں کی وزارت کا بجٹ 210 کروڑ روپئے کے اضافے کے ساتھ 4810 کروڑ سے بڑھا کر 5020 کروڑ روپئے کر دیا گیا ہے، جبکہ اگر روائز بجٹ کو دیکھا جائے تو یہ اضافہ 600 کروڑ سے زیادہ کا ہے۔

    پری میٹرک اسکالرشپس کا بجٹ 1378 سے بڑھا کر 1425 کروڑ کر دیا گیا جبکہ پوسٹ میٹرک اسکالرشپ کا بجٹ 468 کروڑ سے بڑھا کر 515 (پانچ سو پندرہ) کروڑ کر دیا گیا۔ جبکہ میرٹ کم مینس اسکالرشپ کا بجٹ 325 تین سو پچیس کروڑ سے بڑھا کر 365 کروڑ کردیا گیا۔ حالانکہ مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ کا بجٹ 99 کروڑ برقرار رہا۔ اس بجٹ میں کوئی کمی یا اضافہ نہیں کیا گیا۔ اس بار اقلیتی وزارت کے بجٹ میں پردھان منتری جن وکاس کاریہ کرم کے تحت 1650 کروڑ اور مدرسہ ماڈرنائزیشن ٹیچر اسکیم کے لیے 160 کروڑ رکھے گئے ہیں۔ جو پچھلے سال سے 14 کروڑ کم ہیں۔
    اس پورے بجٹ کا مثبت پہلو یہ ہے کہ کورونا وبا کی وجہ سے خراب معیشت کے درمیان اقلیتی امور کا بجٹ کم نہیں کیا گیا بلکہ اس میں کچھ اضافہ کیا گیا ہے۔ جبکہ اس کا منفی پہلو یہ ہے وزارت اقلیتی امور ملک کی 19 فیصد آبادی کے لئے کام کرتی ہے، لیکن وزارت کا بجٹ ملک کے بجٹ کا ایک فیصد بھی نہیں ہے۔ دراصل مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی کم بجٹ میں بڑا کام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

    مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے بجٹ کو تاریخی بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزارت کے بجٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ اسکالرشپ کا بجٹ بڑھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ وزارت کی جانب سے پورے ملک میں ہنر ہارٹ لگائے گئے تھے، اس سے روزگار بڑھا ہے۔ مختار عباس نقوی نے کہا کہ بجٹ ملک کو ترقی کی راہ پر لے جائے گا، اس میں کمزور غریبوں و کسانوں سبھی کا خیال رکھا گیا ہے۔

    مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے بجٹ کو تاریخی بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزارت کے بجٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ اسکالرشپ کا بجٹ بڑھایا گیا ہے۔
    مرکزی وزیر برائے اقلیتی امور مختار عباس نقوی نے بجٹ کو تاریخی بجٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وزارت کے بجٹ میں اضافہ ہوا ہے۔ اسکالرشپ کا بجٹ بڑھایا گیا ہے۔


    اس سے قبل آج جب وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے عام بجٹ پیش کیا تو کمزور معیشت اور اقتصادی بدحالی کا اثر بجٹ پر نظر آیا۔ بجٹ میں حکومت نے انفراسٹرکچر پر توجہ دی اور 25000 کلومیٹر ہائی ویز بنانے، ندیوں کو جوڑنے، 60 لاکھ نوکریاں دینے، 80 لاکھ گھروں کی تعمیر کے اعلانات کئے گئے۔ ڈیجیٹل یونیورسٹی، آلودگی سے نپٹنے کے لئے الیکٹرانک گاڑیوں کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے چارجنگ اسٹیشنز کو بنانے، ساتھ ساتھ طلبہ کے لیے ای اسکول اور اس کے لیے 200 نئے چینلز شروع کرنے کا اعلان کیا۔ لیکن یہ راحت کی بات تھی کہ حکومت نے کوئی بڑا ٹیکس نہیں لگایا۔ انکم ٹیکس کی حد میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔ وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے بجٹ کو اگلے 25 سالوں کا بلیو پرنٹ قرار دیا۔ بجٹ میں ڈیجیٹل کرنسی لانے، کرپٹو کرنسی کی آمدنی پر ٹیکس کے ساتھ ساتھ کسانوں کے لئے آرگینک فارمنگ، 2023 -2022 کو موٹے اناج کا سال بنانے کا اعلان کیا گیا۔

    اس بجٹ کی خاص بات یہ ہے کہ پانچ ریاستوں کے انتخابات کا اثر بجٹ پر نظر نہیں آیا، حکومت نے کسانوں کے لیے کوئی بڑا اعلان نہیں کیا اور نہ ہی انتخابی ریاستوں کے لیے کوئی وعدہ کیا، مجموعی طور پر حکومت یہ کہہ سکتے ہیں کہ بجٹ میں حکومت نے آمدنی اور اخراجات میں توازن پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔
    Published by:Nisar Ahmad
    First published: