ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دہلی الیکشن کے نتائج پر امت شاہ نے کہا : پارٹی کو نفرت آمیز بیان بازی کا نقصان ہوا ، این پی آر پر کہی یہ بڑی بات

دہلی اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی لیڈروں کے بیانات جیسے " گولی مارو" اور "ہندوستان پاکستان میچ" پر امت شاہ نے کہا کہ ایسی باتیں نہیں کی جانی چاہئیں ۔

  • Share this:
دہلی الیکشن کے نتائج پر امت شاہ نے کہا : پارٹی کو نفرت آمیز بیان بازی کا نقصان ہوا ، این پی آر پر کہی یہ بڑی بات
دہلی الیکشن کے نتائج پر امت شاہ نے کہا : پارٹی کو نفرت آمیز بیان بازی کا نقصان ہوا

دہلی اسمبلی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی بڑی جیت اور بی جے پی کو صرف 8 سیٹیں ملنے کے بعد وزیر داخلہ امت شاہ نے پہلی مرتبہ اس پر کھل کر بات چیت کی ہے ۔ ایک پرائیویٹ نیوز چینل کے پروگرام میں دہلی انتخابات سے متعلق ایک سوال کے جواب میں امت شاہ نے کہا کہ ہم صرف فتح اور شکست کے لئے نہیں لڑتے ، بی جے پی وہ پارٹی ہے ، جو نظریہ کی توسیع کے لئے الیکشن لڑتی ہے ۔ امت شاہ نے یہ بھی کہا کہ دہلی کے نتائج کو سی اے اے اور این آر سی کے مینڈیٹ کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہئے ۔


انگریزی نیوز چینل ٹائمس ناؤ کے ایک پروگرام میں امت شاہ نے اعتراف کیا کہ دہلی انتخابات میں ان کا اندازہ غلط ثابت ہوا ۔ امت شاہ نے یہ بھی کہا کہ ان نتائج کو شاہین باغ میں جاری مظاہرہ سے جوڑ کر دیکھنا ٹھیک نہیں ہے ۔ جو لوگ شاہین باغ کی حمایت کرتے ہیں ، یہ ان کا یہ حق ہے ، ہم اگر ان کے خلاف ہیں تو یہ ہمارا حق ہے ۔ شاہ نے یہ بھی تسلیم کیا کہ پارٹی لیڈروں کے نفرت آمیز بیانات سے بی جے پی کو نقصان ہوا ۔


دہلی اسمبلی انتخابات کے دوران بی جے پی لیڈروں کے بیانات جیسے " گولی مارو" اور "ہندوستان پاکستان میچ" پر امت شاہ نے کہا کہ ایسی باتیں نہیں کی جانی چاہئیں ۔ امت شاہ نے کہا کہ پارٹی نے ہمیشہ اس طرح کے بیانات کی مذمت کی ہے ، اس مرتبہ بھی اس نے ان بیانات سے خود کو الگ کرلیا تھا ۔ شاہ نے الزام لگایا کہ ملک کو ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان تقسیم کرنے کا کام ہمیشہ سے کانگریس پارٹی نے ہی کیا ہے ۔


وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ جو بھی مجھ سے سی اے اے سے متعلق امور پر بات چیت کرنا چاہتا ہے ، وہ میرے دفتر سے وقت لے سکتا ہے ، تین دن کے اندر وقت دیا جائے گا ۔ این پی آر سے متعلق ایک سوال کے جواب میں شاہ نے کہا کہ کانگریس اس کے بارے میں افواہیں پھیلارہی ہے ۔ حکومت اس سے قبل بھی متعدد بار واضح کرچکی ہے کہ این پی آر کے لئے کوئی کاغذ نہیں دکھانے پڑے گا ۔

جموں و کشمیر کے سابق وزرائے اعلی عمر عبداللہ اور محبوبہ مفتی پر پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت درج مقدمے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں وزیر داخلہ امت شاہ نے کہا کہ یہ فیصلہ مقامی انتظامیہ نے کیا ہے ، اس میں مرکزی حکومت کی کوئی مداخلت نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے ان دونوں رہنماؤں کے آرٹیکل 370 ہٹانے سے متعلق اشتعال انگیز ٹویٹس ضرور دیکھیں ہوں گے ، کسی کو بھی ایسی زبان کا استعمال نہیں کرنا چاہئے ۔ شاہ نے شرجیل امام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ صرف ایسے بیانات کی وجہ سے ہی جیل میں ہے۔
First published: Feb 13, 2020 08:47 PM IST