உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    میرٹھ : ایس پی کے وائرل ویڈیو پر مختار عباس نقوی نے کہا : اگر سچ ہے تو فورا کارروائی ہونی چاہئے

    مختار عباس نقوی ۔ فائل فوٹو ۔ اے این آئی ۔

    مختار عباس نقوی ۔ فائل فوٹو ۔ اے این آئی ۔

    مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے کہا کہ کسی بھی سطح پر تشدد ( خواہ پولیس کے ذریعہ ہو یا بھیڑ کے ذریعہ ) ناقابل قبول ہے ۔ یہ جموری ملک کا حصہ نہیں ہوسکتا ۔ پولیس کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ جو بے قصور ہیں ، ان کا استحصال نہ ہو ۔

    • Share this:
      میرٹھ کے ایس پی سٹی کے وائرل ویڈیو پر مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے بڑا بیان دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر میرٹھ کے ایس پی کے مبینہ وائرل ویڈیو میں دیا گیا بیان سچ پایا جاتا ہے تو ان کے خلاف فوری کارروائی ہونی چاہئے ۔ اتوار کو اقلیتی امور کے مرکزی وزیر نے کہا کہ اگر یہ سچ ہے کہ انہوں نے ویڈیو میں یہ بیان دیا ہے تو یہ قابل مذمت ہے اور اس کے خلاف فورا کارروائی ہونی چاہئے ۔

      مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے کہا کہ کسی بھی سطح پر تشدد ( خواہ پولیس کے ذریعہ ہو یا بھیڑ کے ذریعہ ) ناقابل قبول ہے ۔ یہ جموری ملک کا حصہ نہیں ہوسکتا ۔ پولیس کو اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ جو بے قصور ہیں ، ان کا استحصال نہ ہو ۔


      خیال رہے کہ شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کے خلاف احتجاج کے دوران پیش آئے تشدد  کے واقعات کے درمیان میرٹھ کے ایس پی سٹی اکھلیش ناراین کا ایک ویڈیو وائرل ہورہا ہے ۔ ویڈیو میں وہ مبینہ طور پر مظاہرین کو کہہ رہے کہ پاکستان چلے جاو ۔ تاہم ایس پی سٹی نے اس معاملہ پر اپنی وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان پاکستان زندہ آباد کے نعرے لگاتے ہوئے گلی میں بھاگ گئے تھے ۔

      میرٹھ زون کے اے ڈی جی پرشانت کمار نے بھی ایس پی سٹی کا دفاع کیا ہے ۔ انہوں نے ہفتہ کو اس پر وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا تھا کہ جس وقت کا یہ ویڈیو ہے ، اس وقت ملک مخالف نعرے بازی کی جارہی تھی ۔ ایس پی سٹی نے کشیدگی کے وقت کسی طرح حالات کو قابو میں کیا ۔ ایس پی سٹی آتش زنی ، توڑپھوڑ اور فائرنگ کے درمیان گھرے ہوئے تھے ۔ ایس پی سٹی نے جانبازی کے ساتھ حالات پر قابو پایا ۔

      اے ڈی جی نے یہ بھی کہا کہ سیکورٹی اہلکاروں نے اپنی جان کی بازی لگا کر لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کی ۔ کل 108 پولیس اہلکار اس دوران زخمی ہوئے تھے ۔ ہم لوگوں نے شفافیت کے ساتھ کارروائی کی ۔ غلط ویڈیو دکھا کر پولیس کی منشا پر شک کرنا مناسب نہیں ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ سازشا ایسا ویڈیو جاری کیا گیا ہے ۔ پولیس کی کارروائی کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔
      First published: