ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اناو سانحہ: سخت سیکورٹی کے درمیان دونوں بیٹیوں کی آخری رسوم ادا، لاش کی ہوگئی تدفین

یوپی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ہتیش چندر اوستھی نے بتایا کہ بے ہوش بچی کا علاج کانپور میں چل رہا ہے اور ڈاکٹروں نے اسے زہر دینے کا مشکوک معاملہ (Suspected Case of Poisoning) بتایا ہے۔

  • Share this:
اناو سانحہ: سخت سیکورٹی کے درمیان دونوں بیٹیوں کی آخری رسوم ادا، لاش کی ہوگئی تدفین
اناو سانحہ: سخت سیکورٹی کے درمیان دونوں بیٹیوں کی آخری رسوم ادا، لاش کی ہوگئی تدفین

اناو: اترپردیش کے اناو (Unnao) کے اسوہا تھانہ علاقہ کے ببرہا گاوں کی دو لڑکیوں کی موت (Death) کے بعد پورے گاوں کو چھاونی میں تبدیل کردیا گیا ہے۔ جمعہ کو سخت سیکورٹی انتظامات کے درمیان دونوں بیٹیوں کی آخری رسم ادا کردی گئی۔ اہل خانہ نے لاش کی تدفین کی ہے۔ اس دوران آئی جی، کمشنر، ڈی ایم، ایس پی سمیت کئی اعلیٰ افسران موقع پر موجود تھے۔ ضلع انتظامیہ کی طرف سے مہلوکین کے گھر پر بھی سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں۔


یوپی پولیس کے ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ہتیش چندر اوستھی نے بتایا کہ بے ہوش بچی کا علاج کانپور میں چل رہا ہے اور ڈاکٹروں نے اسے زہر دینے کا مشکوک معاملہ (Suspected Case of Poisoning) بتایا ہے۔ ڈاکٹروں کے ایک پینل نے ان میں سے دو مہلوک بچیوں کا پوسٹ مارٹم کیا ہے۔ ان کی رپورٹ میں کسی بھی طرح کا چوٹ نہیں پایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وسرا کو محفوظ کرکے کیمیائی تجزیہ کے لئے بھیج دیا گیا ہے۔


حادثہ کی تفتیش کے لئے فورنسک ایکسپرٹ کی مدد لی جارہی ہے۔ معاملے کی سنجیدگی کو دیکھتے ہوئے مقامی پولیس نے 6 ٹیمیں تشکیل دی ہیں۔ سبھی امکانات کے پیش نظر سینئر افسران کی نگرانی میں حادثہ کی جانچ چل رہی ہے۔ واضح رہے کہ گزشتہ بدھ کو اناو ضلع کے اسوہا تھانہ علاقے میں جانوروں کا چارہ لانے گئیں تین بچیاں کھیت میں بے ہوشی کی حالت میں ملی تھی۔ اہل خانہ نے ان تینوں بے ہوش بچیوں کو آناً فاناً میں سی ایچ سی اسوہا پہنچایا، جہاں ڈاکٹروں کے دو بچیوں کو مردہ قرار دے دیا تھا۔


تیسری بچی کو علاج کے لئے اناو اور اس کے بعد کانپور کے ایک اسپتال بھیجا گیا ہے۔ بچی کی حالت ابھی بھی سنگین بنی ہوئی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان سبھی بچیوں کو زہریلی اشیا دی گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے حکم پر حکومت اسپتال میں داخل بچی کے علاج میں آنے والے تمام اخراجات برداشت کرے گی۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Feb 19, 2021 04:05 PM IST