ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اناو : 90 فیصد جل کر بھی ایک کلو میٹر تک دوڑی آبروریزی کی متاثرہ ، خود ہی 100 نمبر پر کیا فون

رویندر بتاتے ہیں کہ شناخت بتانے کے بعد بھی ہمارا ڈر کم نہیں ہوا اور اس کو دور کھڑا رکھا ۔ اس کے بعد متاثرہ نے ہم سے فون مانگا اور خود ہی 100 نمبر پر بات کی ۔

  • Share this:
اناو : 90 فیصد جل کر بھی ایک کلو میٹر تک دوڑی آبروریزی کی متاثرہ ، خود ہی 100 نمبر پر کیا فون
اناو : 90 فیصد جل کر بھی ایک کلو میٹر تک دوڑی آبروریزی کی متاثرہ ، خود ہی 100 نمبر پر کیا فون

اناو : اجتماعی آبروریزی متاثرہ کو زندہ جلانے کے معاملہ میں ایک عینی شاہد رویندر پرکاش سامنے آیا ہے ۔ اس کے مطابق زندہ جلائے جانے کے بعد متاثرہ تقریبا ایک کلو میٹر تک دوڑتے ہوئے اس کے پاس مدد کیلئے پہنچی تھی اور اس کے بعد اس کے فون سے متاثرہ نے خود ہی 100 پر فون کیا اور پولیس کو اس واقعہ کی اطلاع دی ۔ متاثرہ سے بات کرنے کے بعد پی آر وی اور پولیس جائے واقعہ پر پہنچی ۔


رویندر پرکاش نے بتایا کہ وہ وہاں سے دوڑتی ہوئی چلی آرہی تھی اور بچاو بچاو چلا رہی تھی ۔ جب ہم نے پوچھا کون تو اس نے اپنی شناخت بتائی ۔ رویندر کہتے ہیں کہ ہم ڈر گئے ، وہ پوری طرح سے جلی ہوئی تھی ، ہمیں لگا کہ یہ چڑیل ہے ، ہم پیچھے بھاگے اور ڈنڈا اٹھالیا ۔ اس دوران ہم نے کلہاڑی لاو کلہاڑی لاو آواز بھی لگائی ۔


رویندر مزید کہتے ہیں کہ شناخت بتانے کے بعد بھی ہمارا ڈر کم نہیں ہوا اور اس کو دور کھڑا رکھا ۔ اس کے بعد متاثرہ نے ہم سے فون مانگا اور خود ہی 100 نمبر پر بات کی ، جس کے بعد پولیس اہلکار وہاں پہنچے اور اس کو لے کر چلے گئے ۔


eyewitness

اطلاعات کے مطابق یہ حادثہ اس وقت پیش آیا جب متاثرہ رائے بریلی میں اپنے وکیل سے ملنے کے لئے گھر سے نکلی تھی کہ راستے میں اس کے گھر سے صرف ایک کلو میٹر کی دوری پر اس کے بدن پر پٹرول ڈال کر اس کے بدن کو آگ لگا دیا گیا۔ حادثے کے وقت متأثرہ اکیلے تھی۔ اس کے ساتھ اس کے کنبے کا کوئی بھی فرد نہیں تھا۔ متأثرہ کو لکھنؤ کے سول اسپتال میں ریفر کیا گیا ہے جہاں اس کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ سول اسپتال کے ڈائرکٹر ڈاکٹر ڈی ایس نیگی نے بتایا کہ ’ریپ متأثرہ کی حالت کافی نازک ہے۔
First published: Dec 05, 2019 06:38 PM IST