உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UP Assembly Elections 2022 : بی جے پی میں مچی ہلچل کا مغربی یو پی کی سیٹوں پر کتنا پڑ سکتا ہے اثر؟

    UP Elections 2022 : بی جے پی میں مچی ہلچل کا مغربی یو پی کی سیٹوں پر کتنا پڑ سکتا ہے اثر؟ ۔ علامتی تصویر ۔

    UP Elections 2022 : بی جے پی میں مچی ہلچل کا مغربی یو پی کی سیٹوں پر کتنا پڑ سکتا ہے اثر؟ ۔ علامتی تصویر ۔

    UP Assembly Elections 2022 : اتر پردیش (Uttar Paradesh) کی حکمراں جماعت بی جے پی (BJP) سے ایم ایل ایز کی رخصتی کا سلسلہ جاری ہے ۔ ایک کے بعد ایک کئی موجودہ ایم ایل اے پارٹی سے استعفیٰ دے رہے ہیں ۔ پچھلے ایک مہینے میں کئی لیڈران و ایم ایل اے پارٹی سے مایوس ہو چکے ہیں ۔

    • Share this:
    میرٹھ : اتر پردیش (Uttar Paradesh) کی حکمراں جماعت بی جے پی (BJP) سے ایم ایل ایز کی رخصتی کا سلسلہ جاری ہے ۔ ایک کے بعد ایک کئی موجودہ ایم ایل اے پارٹی سے استعفیٰ دے رہے ہیں ۔ پچھلے ایک مہینے میں کئی لیڈران و ایم ایل اے پارٹی سے مایوس ہو چکے ہیں ۔ سیٹوں پر اُمیدواروں کے نام کے اعلان سے قبل پارٹی میں مچی اس ہلچل سے بی جے پی پارٹی منیجمنٹ میں بھی بے چینی بڑھ گئی ہے ۔ ایسے میں کیا کسان آندولن کے بعد اب بی جے پی کی اندرونی رسہ کشی سے سماجوادی اور آر ایل ڈی اتحاد کو فائدہ ہو سکتا ہے؟ جبکہ پہلے مرحلے میں پولنگ کی شروعات مغربی یو پی سے ہو رہی ہے۔

    انتخابی تاریخوں کے اعلان کے بعد اتر پردیش کی سیاست میں ہر روز  نئے نئے منظر نامے سامنے آ رہے ہیں ۔  لیکن 11 جنوری کو جو ہوا وہ غیر متوقع تھا ۔ بی جے پی حکومت میں کابینہ وزیر سوامی پرساد موریہ نے  پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ۔ ان کے ساتھ ایم ایل اے روشن لال ورما ، برجیش پرجاپتی اور بھگوتی پرساد ساگر نے بھی بی جے پی سے استعفیٰ دے دیا ۔ اگلے دن 12 جنوری کو اوتار سنگھ بھڈانہ نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا اور آر ایل ڈی میں شامل ہو گئے ، جبکہ بدھ کو وزیر جنگلات دارا سنگھ چوہان نے بھی پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ۔

    کہا جا رہا ہے کہ ابھی بی جے پی کے مزید ایم ایل اے پارٹی چھوڑ سکتے ہیں  ایسے میں پارٹی چھوڑنے والے لیڈروں کی فہرست طویل ہوتی جا رہی ہے ۔ بی جے پی میں مچی اس ہلچل سے سماجوادی پارٹی اور آر ایل ڈی  لیڈران اور کارکنان میں بھی خوشی نظر آ رہی ہے ۔ وہیں سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹکٹوں کے اعلان سے قبل اس طرح کا ماحول عموماً دیکھنے کو ملتا ہے ، جس کا سیاسی جماعتوں کو فائدہ اور نقصان ہوتا ہے ۔ خاص طور پر ایسے ماحول میں جب کسان آندولن کے بعد  بی جے پی کی حمایت کرنے والے ایک طبقے میں ناراضگی ہو ۔

    کسان آندولن اور مغربی یو پی کی سیاست کو باریکی سے سمجھنے والے جانکار مانتے ہیں کہ مغربی یو پی میں جہاں پچھلے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے تقریباً کلین سویپ کرتے ہوئے 58 میں سے 52 سیٹوں پر اپنا پرچم لہرایا تھا ۔ کسان آندولن اور سماجوادی ۔ آر ایل ڈی اتحاد کے بعد بدلتے حلات میں پہلے مرحلے کی ووٹنگ کا اثر دوسری سیٹوں پر بھی نظر آ سکتا ہے ۔ سیاسی تجزیہ کار مانتے ہیں کہ حکومت میں رہی پارٹی سے وزیر اور ایم ایل اے  کا ایسا وقت میں جانا جبکہ الیکشن سر پر ہے ، نقصان دہ تو ہے لیکن اس کا یہ قطعی مطلب نہیں کہ الیکشن ایک طرفہ ہوگا ۔ تاہم پہلے مرحلے میں مغربی یو پی کی پولنگ کا اثر دوسری سیٹوں پر ووٹر کے مزاج کو متاثر کر سکتا ہے ۔

    یو پی میں انتخابات کی تاریخوں کے اعلان کے فوراً بعد وزرا اور ایم ایل اے کے پارٹی چھوڑنے سے بی جے پی خیمے میں مچی ہلچل کا کتنا اثر الیکشن میں نظر آتا ہے ، یہ تو آنے والا وقت بتائے گا ، لیکن موقع ہاتھ سے نہ جانے کے فارمولے پر عمل کرتے ہوئے بی جے پی مخالف سیاسی جماعتوں نے ان حالات کو اپنے حق میں استعمال کرنے کی ہر ممکن کوشش شروع کر دی ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: