உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UP Assembly Elections : اثر انگیز چھوٹی جماعتیں اور سیاسی محاذ

    UP Assembly Elections : اثر انگیز چھوٹی جماعتیں اور سیاسی محاذ

    UP Assembly Elections : اثر انگیز چھوٹی جماعتیں اور سیاسی محاذ

    Uttar Pradesh Politics : چھوٹی چھوٹی جماعتوں کے رول اور الیکشن ہر پڑنے والے اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ۔ کئی محاذ ایسے ہیں جو بھلے ہی بڑی کامیابیاں حاصل نہ کر سکیں لیکن بڑی جماعتوں کی کامیابی کے راستوں کو متاثر ضرور کرسکتے ہیں ۔

    • Share this:
    لکھنئو : اتر پردیش میں ہونے والے اسمبلی الیکشن (Uttar Pradesh Assembly Elections) کے پیش نظر چھوٹی چھوٹی جماعتیں اورتنظیمیں بھی اپنے اغراض مقاصد کی تکمیل کے لئے میدان سیاست میں اتر آئی ہیں ، سب کو اقلیتوں کے حقوق اور مستقبل کی فکر ستانے لگی ہے اور مظلوموں کے زخم دکھائی دینے لگے ہیں ۔ سیاسی جماعتیں اور نظریات جس انداز سے کروٹیں بدل رہے ہیں ، اس نے ایک غیر یقینی صورت حال پیدا کردی ہے ۔ سیاسی جماعتوں کے موقف بھی تبدیل ہورہے ہیں اور سیاسی لیڈروں کے موضوعات و بیانات بھی ۔ ایک طرف حزبِ اختلاف کی جانب سے ووٹروں کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ موجودہ اقتدار نے کسی ایک سطح پر نہیں بلکہ ہر محاذ اور ہر سطح پر عوام کو فریب دیا ہے عوامی مسائل کو نظر انداز کرکے انہیں غریبی، جہالت بے روزگاری مہنگائی اور جرائم کی نذر کردیا ہے ، تو دوسری طرف ارباب اقتدار کی جانب سے سیاسی آقاؤں کی مسلسل قصیدہ خوانیاں عوام میں یہ تاثر پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہیں کہ بی جے پی حکومت نے اب تک جو کچھ کیا ہے وہ قابل ستائش ہے - بات چاہے سماجی تنظیموں کی ہو یا سیاسی گُٹوں کی اہم سوال یہ ہے کہ سب کو الیکش کے وقت ہی کیوں سماج کے دبے کچلے بے سہارا لوگوں کا خیال کیوں آتا ہے ؟

    یوں تو اتر پردیش میں ذات پات اور مذہبی بنیادوں پر کی جانے والی سیاست کا دور دورا ہمیشہ سے رہا ہے ، لیکن جس انداز  کی بیان بازیاں فی الوقت کی جارہی ہیں ان سے یہ واضح اشارے ملے ہیں کہ بی جے پی اور اس کی ہمنوا حلیف جماعتیں ایک بار  پھر اسی مذہبی سیاست کی طرف لوٹ رہی ہیں ، جس سے بنام مذہب ووٹ بنک کی تقسیم کو یقینی بنایا جاسکے ۔ بابری، کاشی متھرا، ہندو راشٹر ، رام راجیہ اور مسلم مخالف نعرے بازیوں اور سوچ نے ملک کے سبھی امن پسند اور جمہوریت میں یقین رکھنے والے شہریوں کے مسائل پیدا کردئے ہیں ۔

    اس انداز کے بیانات نے عوام کے بنیادی اور ضروری مسائل کو پس پشت ڈال دیا ہے ۔ معروف سیاسی رہنما سید بلال نورانی کہتے ہیں کہ کورونا میں دواؤں اور علاج کے فقدان میں ہزاروں لوگوں کی اموات ، بڑھتی بے روزگاری، مہنگائی، سماجی عدم استحکام ، تعلیمی ، معاشی اور صحت پر مبنی مسائل منھ اٹھائے کھڑے ہیں ، لیکن ارباب اقتدار کہتے ہیں کہ سب کچھ ٹھیک چل رہا ہے ۔ بلال نورانی کے مطابق یہ عوام کے ساتھ فریب اور ملک کے ساتھ غد داری کے مترادف تو ہے ہی آئین و دستور کی خلاف ورزی بھی ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ سیاست کے اس بدلتے رخ نے ان لوگوں کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے جو ملک میں مثبت سیاست کے خواب دیکھتے رہے ہیں ۔ اب دیکھنا یہی ہے کہ منفی و مثبت سیاست کیا گل کھلاتی ہے ۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سماج وادی پارٹی کے وجے رتھ کا بندیل کھنڈ کے مختلف علاقوں میں جو استقبال کیا گیا ہے اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس بار اقتدار کی لڑائی اتنی آسان نہیں جتنی تصور کی جارہی ہے۔

    تمام منفی و مثبت نظریات کے تجزیے کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ الیکشن کے وقت اپنے تھیلوں سے باہر آنے والی یہ بلیاں اپنے اغراض و مقاصد حل کرکے  آئندہ الیکشن تک کے لئے پھر تھیلوں میں واپس چکی جاتی ہیں۔ لہٰذا اب لوگوں کو اپنے شعور اور خاص طور پر سیاسی  شعور سے کام لے کر ملک اور ملک کے جمہوری نظام کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ۔
    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: