ہوم » نیوز » وطن نامہ

ایودھیا زمین تنازعہ فیصلہ: متنازعہ اراضی رام للا وراجمان کو دی جائے، مندر کی تعمیر کے لئے ٹرسٹ بنے: سی جے آئی

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں رام مندر کی تعمیر کا راستہ صاف کردیا ہے۔ سپریم کورٹ نے متنازعہ اراضی رام للا وراجمان کو دی ہے۔ ساتھ ہی سنی وقف بورڈ کو مسجد کیلئے ایودھیا یں کہیں بھی 5 ایکڑ زمین دینے کو کہا ہے۔ وہیں عدالت میں نرموہی اکھاڑہ کے سبھی دعوے خارج ہوگئے ہیں۔

  • Share this:
ایودھیا زمین تنازعہ فیصلہ: متنازعہ اراضی رام للا وراجمان کو دی جائے، مندر کی تعمیر کے لئے ٹرسٹ بنے: سی جے آئی
اجودھیا معاملے پر سپریم کورٹ نے سنایا بڑا فیصلہ

برسوں قدیم رام جنم بھومی - بابری مسجد اراضی تنازع میں سپریم کورٹ نے آج  9 نومبر کو اپنا تاریخی فیصلہ سنادیا ہے۔ سنیچر کو صبح ساڑھے 10 بجے سے اس پر فیصلہ پڑھنا شروع کیا۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں متنازع زمین کو رام للا وراجمان کو دینے کی  ہدایت دی ہے۔ جبکہ سنی وقف بورڈ کو ایودھیا میں پانچ ایکڑ زمین دینے کو کہا ہے۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مسلم فریق کو متبادل پانچ ایکڑ زمین فراہم کرائی جائے۔ چیف جسٹس رنجن گوگوئی ، جج ایس اے بوبڈے ، جج ڈی وائی چندر چوڑ ، جج اشوک بھوشن اور جج ایس عبدالنذیر کی آئینی بنچ نے یہ فیصلہ سنایا۔ سی جے آئی رنجن گوگوئی نے فیصلہ پڑھا۔


سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں رام مندر کی تعمیر کا راستہ صاف کردیا ہے۔ سپریم کورٹ نے متنازعہ اراضی رام للا وراجمان کو دی ہے۔  ساتھ ہی سنی وقف بورڈ کو مسجد کیلئے ایودھیا یں کہیں بھی 5 ایکڑ زمین دینے کو کہا ہے۔ وہیں عدالت میں نرموہی اکھاڑہ  کے سبھی دعوے خارج ہوگئے ہیں۔

ایودھیا پر پانچوں ججوں نے اتفاق رائے سے فیصلہ دیا ہے ۔ فیصلہ سناتے ہوئے سی جے آئی نے کہا کہ مندر اور مسجد میں 400 سالوں کا فرق ہے

First published: Nov 09, 2019 12:33 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading