ہوم » نیوز » وطن نامہ

تین طلاق کے بعد سسر کے ساتھ حلالہ، عدت میں شوہر نے کیا ریپ

حلالہ کی آڑ میں خواتین کے جنسی استحصال کا ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے۔ سنبھل کی رہنے والی خاتون کا الزام ہے کہ اس کے شوہر نے اسے تین طلاق دینے کے بعد اپنے والد کے ساتھ حلالہ کرنے پو مجبور کیا اور پھر عدت کے دوران شوہر نے ریپ کیا۔

  • Share this:
تین طلاق کے بعد سسر کے ساتھ حلالہ، عدت میں شوہر نے کیا ریپ
متاثرہ خاتون

حلالہ کی آڑ میں خواتین کے جنسی استحصال کا ایک اور معاملہ سامنے آیا ہے۔ سنبھل کی رہنے والی خاتون کا الزام ہے کہ اس کے شوہر نے اسے تین طلاق دینے کے بعد اپنے والد کے ساتھ حلالہ کرنے پر مجبور کیا۔ سسر کے طلاق دینے کے بعد جب وہ عدت کا وقت گزار رہی تھی اسی دوران اس کے شوہر نے اس کے ساتھ کئی مرتبہ زبردستی (جبراً) ریپ کیا۔ اس درمیان جب وہ حاملہ ہو گئی تو اپنے گناہوں کا راز سب کے سامنے کھلنے کے ڈر سے اسے قید کر لیا گیا اور جبراً اسقاط حمل کرانے کی کوشش کی گئی۔ کسی طرح پولیس کی مدد سے اپنے شوہر کے چنگل سے چھوٹی اس خاتون نے بریلی کے میرا حق فاؤنڈیشن کی صدر فرحت نقوی سے مل کر انصاف کی گہار لگائی ہے۔


سنبھل ضلع کی رہنے والی رضیہ خاتون کا بھی نام اسی فہرست میں جڑ گیا ہے جن کے ساتھ شریعت کی آڑ میں گھنونا کھیل کھیلا گیا۔ رضیہ کو شادی کے بعد محض 2 مہینے 24 دنوں تک ہی سسرال میں رکھا گیا اور اس کے بعد اسے مار پیٹ کر کے گھر سے نکال دیا گیا۔ بعد میں رضیہ کو اس کے شوہر نے تین طلاق دے دیا۔ رضیہ نے جب اپنے سسرال والوں پر جہیز استحصال کا مقدمہ درج کرایا تو اس کے شوہر نے اسے اپنے ساتھ رکھنے کا وعدہ کرکے معاملے میں سمجھوتہ کروا لیا۔ پھر اپنے ہی والد سے اس کے شوہر نے رضیہ کا حلالہ کروایا۔ اتنا ہی نہیں عدت کے دن گزر بھی نہیں پائے تھے کہ رضیہ کے شوہر نے اس کے ساتھ زبردستی ریپ کیا۔


شوہر کی اس گھناونی حرکت کے بعد جب رضیہ حاملہ ہو گئی تو اس پر بھی اسقاط حمل کرانے کا دباؤ بنایا گیا۔ جب وہ نہیں مانی تو 15 دنوں تک اسے بھوکا پیاسا گھر میں قید رکھا گیا لیکن اس درمیان رضیہ نے کسی طرح پولیس کو اطلاع دے دی۔ جس کے بعد پولیس نے اسے شوہر کی قید سے آزاد کروایا۔


رضیہ کی پولیس میں بھی جب سنوائی نہیں ہوئی تو اس نے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی کی بہن اور میرا حق فاؤنڈیشن کی صدر فرحت نقوی سے مدد کی گہار لگائی ہے۔ اس معاملے میں فرحت نقوی کا کہنا ہے کہ وہ اقلیتی کمیشن میں اس معاملے کی شکایت کریں گی اور ضرورت پڑی تو رضیہ کا کیس سپریم کورٹ تک پہنچائیں گی۔
First published: Aug 07, 2018 12:39 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading