உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    شادی کے ایک ماہ بعد ہی بیوی کے سسرال سے چلے جانے سے اتنا پریشان ہوا شوہر، بن گیا سریل حملہ آور

    شادی کے ایک ماہ بعد ہی بیوی کے سسرال سے چلے جانے سے اتنا پریشان ہوا شوہر، بن گیا سریل حملہ آور

    شادی کے ایک ماہ بعد ہی بیوی کے سسرال سے چلے جانے سے اتنا پریشان ہوا شوہر، بن گیا سریل حملہ آور

    Uttar Pradesh Crime News: غازی آباد سیکنڈ ایس پی سٹی گیانیندر سنگھ نے بتایا کہ سونو کی شادی 2014 میں ہوئی تھی اور شادی کے ایک ماہ بعد ہی اس کی بیوی اس کو چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ پولیس کا ماننا ہے کہ سونو مایوس ہوگیا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہی وجہ سامنے آرہی ہے، جس کے سبب سونو ان واردات کو انجام دے رہا تھا۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      غازی آباد: اترپردیش کی غازی آباد پولیس نے آخر کار اس سیریل سرپھرے حملہ آور کو گرفتار کرلیا، جو اکیلی خاتون کو گھر میں دیکھتے ہی چاقو سے حملہ کردیتا تھا۔ پولیس کے مطابق، اب تک کہ تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ شادی کے بعد اس کی بیوی ایک ماہ بعد ہی اپنے والدین کے گھر چلی گئی تھی، اسی وجہ سے وہ مایوس تھا۔

      غازی آباد کی تھانہ لنک روڈ پولیس کی گرفت میں آیا 35 سالہ پٹنہ کا باشندہ سونو نے علاقے کی خواتین میں دہشت کا ماحول بنا دیا تھا۔ خاتون اکیلے گھر میں رہنے میں ڈرنے لگی تھی۔ سونو نے مسلسل دو اور تین تاریخ کو دو الگ الگ خواتین پر چاقو سے حملہ کر دیا تھا۔ علاقے میں سرپھرے سیریل حملہ آورکے کارناموں سے دہشت ہوگئی تھی اور پولیس پر بھی زبردست دباو تھا۔ آخر کار پولیس نے سونو کو گرفتار کرلیا ہے۔

      غازی آباد سیکنڈ ایس پی سٹی گیانیندر سنگھ نے بتایا کہ سونو کی شادی 2014 میں ہوئی تھی اور شادی کے ایک ماہ بعد ہی اس کی بیوی اس کو چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ پولیس کا ماننا ہے کہ سونو مایوس ہوگیا تھا۔
      غازی آباد سیکنڈ ایس پی سٹی گیانیندر سنگھ نے بتایا کہ سونو کی شادی 2014 میں ہوئی تھی اور شادی کے ایک ماہ بعد ہی اس کی بیوی اس کو چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ پولیس کا ماننا ہے کہ سونو مایوس ہوگیا تھا۔


      غازی آباد سیکنڈ ایس پی سٹی گیانیندر سنگھ نے بتایا کہ سونو کی شادی 2014 میں ہوئی تھی اور شادی کے ایک ماہ بعد ہی اس کی بیوی اس کو چھوڑ کر چلی گئی تھی۔ پولیس کا ماننا ہے کہ سونو مایوس ہوگیا تھا۔ پولیس کے مطابق، یہی وجہ سامنے آرہی ہے، جس کے سبب سونو ان واردات کو انجام دے رہا تھا۔ پولیس کا خود ماننا ہے کہ اگر سونو کو جلد گرفتار نہیں کیا جاتا تو یہ مزید واردات کو بھی انجام دیتا رہتا اور علاقے میں ڈر اور خوف کا ماحول رہتا۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: