ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

مدارس کےلئے977 کروڑ روپئے کا بھاری بھرکم بقایا مانگ رہی ہے اتر پردیش کی یوگی حکومت

مرکزی حکومت کی مدرسہ جدید کاری اسکیم کے تحت کام کرنے والے اترپردیش کے اساتذہ کو بھکمری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان اساتذہ نے حکومت سے التجا کی کہ ان کی 4 سال کی تنخواہ کے بقایاجات کے 977 کروڑ روپئے جاری کئے جائیں۔

  • Share this:
مدارس کےلئے977 کروڑ روپئے کا بھاری بھرکم بقایا مانگ رہی ہے اتر پردیش کی یوگی حکومت
مدرسوں کے لئے977 کروڑوں کا بھاری بھرکم بقایا مانگ رہی ہے اتر پردیش حکومت

نئی دہلی: کورونا بحران کی وجہ سے  پورے ملک کو معاشی تنگی اور لاک ڈاؤن کا سامنا ہے، ایسی صورتحال میں مرکزی حکومت کی مدرسہ جدید کاری اسکیم کے تحت کام کرنے والے اترپردیش کے اساتذہ کو بھکمری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان اساتذہ نے حکومت سے التجا کی کہ ان کی 4 سال کی تنخواہ کے بقایاجات کے 977 کروڑ روپئے جاری کئے جائیں۔ اس کے لئےمدرسہ جدید کاری اسکیم اسوسی ایشن کے صدر اعجاز احمد کی جانب سے اپیل جاری کی گئی ہے۔


اعجاز احمد کا کہنا ہے گزشتہ چار سالوں سے ہمارے اساتذہ کو تنخواہ نہیں ملی ہے اور کئی اساتذہ خود کشی کر چکے ہیں۔ کورونا وائرس کی آفت کی وجہ سے حالات مزید بدتر ہوئے ہیں۔ سنگین ترین معاشی مالی بحران کا سامنا  ہم لوگ کر رہے ہیں۔ ہماری اتر پردیش سرکار کے سیکرٹری برائے اقلیتی امور اور وزیر نندگوپال گپتا نندی کی جانب سے وزارت فروغ انسانی وسائل کے وزیر رمیش پوکھریال نشنکھ کو  ہماری سیلری کے بقایا 977 کروڑ روپئے جاری کرنے کے لئے خط لکھا گیا ہے ہمیں امید ہے مرکزی حکومت ہمارے مسائل پر پوری توجہ دے گی۔


پیلی بھیت کے مدرسہ مصباح العلوم میں پڑھانے والے فرحت حسین نے اپنی حالت بیان کرتے ہوئے کہا ہم لوگ پہلے  ٹیوشن پڑھا کر گزارہ کر لیتے تھے، لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے ٹیوشن بھی نہیں مل رہا ہے۔ ہمارا باہر جانا منع ہے، ایسے میں ماں باپ کی دوائی کے لئے بھی  پیسے نہیں ہوتے۔ ایسے حالات میں صرف سرکار سے تنخواہ ملنےکی امید ہے تاکہ ہم لوگ پیٹ بھر کھانا کھا سکیں۔ مرادآباد کے فہیم انصاری نے بتایا پچھلے 50 مہینوں سے تنخواہ نہیں ملی ہے، مرکزی حکومت سے پیسہ نہیں آیا ہے ایسے میں حالات کیا ہوں گے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ واضح رہے کہ ملک کے مدرسوں کو جدید تعلیم سے جوڑنے کے لئے اسکیم کو مدرسہ ماڈرنائزیشن اسکیم کے ذریعے 2009 میں لایا گیا تھا، اسکیم کو شروع کرتے ہوئے 100 فیصد مرکزی حکومت کے ذریعے اے فنڈنگ کو اپنایا گیا تھا، لیکن گزشتہ سال 2019 میں فنڈنگ کی شکل میں تبدیلی کر دی گئی۔ مرکزی حکومت نے اس اسکیم کی فنڈنگ ​​کے انداز کو تبدیل کرتے ہوئے ریاستوں پر 40 فیصد فنڈنگ کو ضروری قرار دیا جبکہ مرکز کے حصے میں 60 فیصد فنڈنگ رہ گئی ہے۔


اسکیم کے اساتذہ کو ملتی ہے بہت ہی کم تنخواہ

کسی بھی سرکاری ملازم کی تنخواہ کافی زیادہ ہوتی ہے۔ خاص طور سے تعلیم سے منسلک ملازمین اور اساتذہ کی تنخواہیں کافی زیادہ ہوتی ہیں۔ عام طور پر تنخواہ 40000 ہزار سے زیادہ ہوتی ہیں، لیکن اس  اسکیم کے تحت کام کرنے والے اساتذہ کی تنخواہ کافی کم ہے۔ گریجویٹ ٹیچر کو اعزازیہ کی شکل میں صرف 6 ہزار روپے ملتے ہیں اور پوسٹ گریجویٹ اساتذہ کو 12000 روپے ملتے ہیں، جس میں مرکز کو 6000 میں سے صرف 3600 اور 12000 میں سے صرف 7200 دینے ہوتے ہیں۔

اتر پردیش حکومت الگ سے دیتی ہے اساتذہ کو مدد

مرکزی حکومت کے ذریعے دی جانے والی کم تنخواہ کی وجہ سے اترپردیش حکومت اساتذہ کی مدد کرتے ہوئے کچھ رقم اپنے بجٹ سے دیتی ہے۔ سماج وادی پارٹی کی ریاست میں حکومت کے دور میں اس مدد کی شروعات ہوئی تھی، جس کے تحت انڈر گریجویٹ کو مدد کے طور پر 2000 روپئے ماہانہ دیئے جاتے ہیں جبکہ پوسٹ گریجویٹ کو مدد کے طور پر تین ہزار روپئے ماہانہ دیئے جاتے ہیں، جس سے ان اساتذہ کا گزارہ ہو پاتا ہے۔

سال 2013 سے بقایا ہے اساتذہ کی سیلری
حکومت کے اقلیتی وزیر نند گوپال نندی نے اپنے خط میں 977 کروڑ روپئے اتر پردیش کا بقایا مانگا ہے۔ تاہم حیران کن بات یہ ہے سال 2013 سے بقایا مانگا گیا ہے۔ مرکزی حکومت کے ذریعہ 100 فیصد فنڈنگ کا بقایا 49549.68 لاکھ روپئے ہے۔ یہ بقایا 2013 سے مالی سال 2017 تک کا ہے۔
First published: Jun 28, 2020 04:39 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading