உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    واپس ہوں گی وقف میں درج سرکاری زمین،33 سال پرانا کانگریسی حکمنامہ منسوخ

    واپس ہوں گی وقف میں درج سرکاری زمین،33 سال پرانا کانگریسی حکمنامہ منسوخ

    واپس ہوں گی وقف میں درج سرکاری زمین،33 سال پرانا کانگریسی حکمنامہ منسوخ

    پچھلے مہینے ریونیو کونسل کے پرنسپل سکریٹری سدھیر گرگ نے ایک حکم نامہ جاری کیا اور کانگریس کے دور حکومت میں جاری حکم کو ختم کرتے ہوئے دستاویزات کو درست کرنے کی ہدایت دی تھی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi | Lucknow
    • Share this:
      اُترپردیش حکومت نے 33 سال پرانا حکمنامہ منسوخ کرتے ہوئے وقف میں درج سرکاری زمین کا سروے کرنے کا حکم دیا ہے۔ اگر کوئی عوامی زمین وقف جائیداد میں درج کرلی گئی تھی، تو اسے منسوخ کردیا جائے گا اور وہ ریونیو ڈپارٹمنٹ میں حقیقی فارمیٹ میں درج کی جائے گی۔

      حکومت کے اس حکم کے تناظر میں ڈپٹی سکریٹری اقلیتی بہبود اور وقف سیکشن شکیل احمد صدیقی نے تمام ڈیویژنل کمشنروں اور ضلع مجسٹریٹس کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے ایک ماہ کے اندر اندر ایسے تمام پلاٹوں کے بارے میں جانکاری طلب کی ہے۔ اس کے ساتھ ریکارڈ درست کرنے کی بھی ہدایات دی گئی ہیں۔

      بتادیں کہ 07 اپریل 1989 کو سابق کانگریس حکومت نے ایک حکم جاری کیا تھا۔ اس میں کہا گیا تھا کہ اگر عام جائیداد بنجر، بھیٹا، اوسر و دیگر زمین کا استعمال وقف (مثلاً قبرستان، مسجد، عیدگاہ) کے طور پر کیا جارہا ہو تو اسے وقف جائیداد کے طور پر ہی درج کردیا جائے۔ اس کے بعد اس کی حد بندی کی جائے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      کرناٹک حجاب تنازع: جے ڈی ایس کے ریاستی صدر نے حجاب کا گھونگھٹ سے کیا موازنہ

      یہ بھی پڑھیں:
      کیجریوال کا اعلان، حکومت بنی تو گجرات میں عام آدمی پارٹی پرانی پینشن اسکیم کرے گی بحال

      سپریم کورٹ میں SG کی دلیل، قرآن میں صرف حجاب کا تذکرہ ہونے سے وہ لازمی مذہبی روایت نہیں

      اس حکم کے تحت ریاست میں لاکھوں ہیکٹر بنجر، بھیٹا اور اوسر اراضی کو وقف جائیداد کے طور پر رجسٹر کیا گیا تھا۔ اب ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ ان جائیدادوں کی نوعیت یا انتظام میں جو تبدیلیاں کی گئی ہیں وہ ریونیو قوانین کے خلاف ہیں۔ پچھلے مہینے ریونیو کونسل کے پرنسپل سکریٹری سدھیر گرگ نے ایک حکم نامہ جاری کیا اور کانگریس کے دور حکومت میں جاری حکم کو ختم کرتے ہوئے دستاویزات کو درست کرنے کی ہدایت دی تھی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: