உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UP News: غیر تسلیم شدہ مدرسوں کا سروے کرائے گی یوپی حکومت، بورڈ کے چار تجاویز کو انتظامیہ کی منظوری

    UP News: غیر تسلیم شدہ مدرسوں کا سروے کرائے گی یوپی حکومت، بورڈ کے چار تجاویز کو انتظامیہ کی منظوری

    UP News: غیر تسلیم شدہ مدرسوں کا سروے کرائے گی یوپی حکومت، بورڈ کے چار تجاویز کو انتظامیہ کی منظوری

    UP News: ریاست اُترپردیش میں غیر سرکاری تسلیم شدہ مدارس کا سروے ہوگا۔ اس سلسلے میں تمام ضلع مجسٹریٹس کو خط لکھا گیا ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Lucknow | Uttar Pradesh | New Delhi
    • Share this:
      UP News: مدرسہ بورڈ کی چار اہم تجاویز کو انتظامیہ نے منظوری دیتے ہوئے حکم جاری کردیا ہے۔ اب سرکاری امداد یافتہ مدارس میں اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کے تبادلے کیے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اساتذہ کو زچگی اور بچوں کی دیکھ بھال کی چھٹی بھی ملے گی۔

      یوپی مدرسہ ایجوکیشن کونسل کے رجسٹرار جگ موہن سنگھ کے مطابق حکومت نے حکم جاری کیا ہے کہ ریاست کے امداد یافتہ مدارس کے اساتذہ اور غیر تدریسی عملے کا تبادلہ اب باہمی رضامندی سے کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے درخواست کو اس کی سفارش کے ساتھ رجسٹرار مدرسہ بورڈ کو دو ماہ کے اندر اندر ضلع اقلیتی بہبود افسر کو بھیجنا ہوگا۔

      رجسٹرار ایک مہینے میں امتحان کرکے اس پر فیصلہ کریں گے۔ اس کے علاوہ اگر کہیں انتظامی کمیٹی میں اختلاف ہے تو متوفی پر مںحصر رہنے والے کی تقرری کے احکامات ضلع اقلیتی بہبود آفیسر اور پرنسپل کے ذریعہ جاری کئے جاسکتے ہیں۔ کمیٹی کے تنازع کی صورت میں اسے روکا نہیں جائے گا۔

      وہیں امداد یافتہ مدارس میں کام کرنے والی اساتذہ اور دیگر خواتین ملازمین کے لیے بھی اچھی خبر ہے۔ اب دیگر محکموں کی طرح اب وہ بھی چھ ماہ کی زچگی کی چھٹی حاصل کر پائیں گی۔ اس کے علاوہ بچوں کی دیکھ بھال کے لیے دو سال کی چھٹی بھی ملے گی۔ حکومت نے متعلقہ حکم نامہ جاری کر دیا ہے۔

      یہ بھی پڑھیں:

      MP News: راجدھانی بھوپال میں خلع کے بڑھتے معاملات نے دانشوروں کی فکر میں کیا اضافہ

      یہ بھی پڑھیں:
      ملک کی خدمت کیلئے مسلم نوجوان اگنی ویر منصوبہ میں لیں حصہ،

      غیر تسلیم شدہ مدارس کا ہوگا سروے
      ریاست اُترپردیش میں غیر سرکاری تسلیم شدہ مدارس کا سروے ہوگا۔ اس سلسلے میں تمام ضلع مجسٹریٹس کو خط لکھا گیا ہے۔ دراصل، چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کو موصول ہونے والی شکایات کی بنیاد پر یہ سروے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس میں ایسے مدارس کی تعداد، وہاں دستیاب سہولیات اور طلبہ کی تفصیلات جمع کی جائیں گی۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: