உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Lakhimpur Kheri Violence: سپریم کورٹ سے آشیش مشرا کی ضمانت رد کرنے کا مطالبہ ، بینچ نے کہا : ہم جانتے ہیں ہمیں کیا کرنا ہے

    Lakhimpur Kheri Violence: سپریم کورٹ سے آشیش مشرا کی ضمانت رد کرنے کا مطالبہ ، بینچ نے کہا : ہم جانتے ہیں ہمیں کیا کرنا ہے File Photo)

    Lakhimpur Kheri Violence: سپریم کورٹ سے آشیش مشرا کی ضمانت رد کرنے کا مطالبہ ، بینچ نے کہا : ہم جانتے ہیں ہمیں کیا کرنا ہے File Photo)

    Lakhimpur Kheri Violence: عرضی گزار کے وکیل دشینت دوے نے چیف جسٹس این وی رمن ، جسٹس ہما کوہلی اور جسٹس سوریہ کانت کی بینچ سے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے ضمانت دینے میں کئی حقائق پر دھیان نہیں دیا ۔ یہ قتل کا سنگین معاملہ ہے ۔ اہم ملزم کی ضمانت رد ہونی چاہئے ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : لکھیم پور کھیری تشد معاملہ کے اہم ملزم داخلی امور کے وزیر مملکت اجے مشرا ٹینی کے بیٹے آشیش مشرا کی ضمانت کو چیلنج کرنے والی عرضی پر پیر کو سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی ۔ عرضی گزار کے وکیل دشینت دوے نے چیف جسٹس این وی رمن ، جسٹس ہما کوہلی اور جسٹس سوریہ کانت کی بینچ سے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے ضمانت دینے میں کئی حقائق پر دھیان نہیں دیا ۔ یہ قتل کا سنگین معاملہ ہے ۔ اہم ملزم کی ضمانت رد ہونی چاہئے ۔ اس پر سپریم کورٹ نے کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ ہمیں کیا کرنا ہے ۔ غور طلب ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ نے آشیش مشرا کو ضمانت دی تھی اور 15 فروری کو وہ جیل سے باہر آیا تھا ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : عمران خان کی کرسی جاتے ہی دبئی بھاگیں بشری بی بی کی دوست، PTI کے کئی لیڈران بھی فرار


      آشیش مشرا کی ضمانت رد کرنے کی مانگ کرنے والے عرضی گزار جگجیت کی جانب سے پیش سیئنر وکیل دشینت دوے نے سپریم کورٹ سے کہا کہ ایف آئی آر میں واضح طور پر لکھا ہے کہ تھار جیپ سے لوگوں کو کچلا گیا ۔ اس گاڑی میں آشیش مشرا بیٹھے تھے ۔ اس دوران گولیاں بھی چلیں ۔ واضح طور پر بتایا گیا تھا کہ آشیش مشرا نے لوگوں پر گاڑی چڑھائی ۔ نائب وزیر اعلی کے پی موریہ کے سفر کا راستہ تبدیل ہونے کے باوجود ملزم اس راستے پر گیا ، جس پر کسان احتجاج کررہے تھے ، لیکن الہ آباد ہائی کورٹ نے اس واقعہ کے اہم ملزم کو ضمانت دیتے ہوئے کہہ دیا کہ گولی چلنے کے ثبوت نہیں ہیں ۔

       

      یہ بھی پڑھئے : ملک میں جاری سیاسی ہلچل پر پاکستانی فوج نے جاری کیا بڑا بیان، کہی یہ بات


      وہیں آشیش مشرا کے وکیل رنجیت کمار نے سپریم کورٹ سے کہا کہ پولیس کو کسانوں کی طرف سے دی گئی رپورٹ میں ہی کہا گیا ہے کہ گولی لگنے سے ایک بھی کسان نہیں مرا ، تبھی ہائی کورٹ نے گولی نہیں چلنے کی بات کہی ۔ لوگوں نے یہ بھی کہا کہ آشیش مشرا گنے کے کھیت میں بھاگ گئے ۔ جائے واقعہ پر گننے کے کھیت تھے ہی نہیں ، بلکہ دھان کے کے کھیت موجود تھے ۔

      وہیں یوپی سرکار کے وکیل مہیش جیٹھ ملانی نے سپریم کورٹ سے کہا کہ ہمیں جمعہ کو ایس آئی ٹی کی رپورٹ ملی ہے اور اس کو ریاستی سرکار کے پاس بھیج دیا گیا ہے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ہم حلف نامہ پر بھروسہ کررہے ہیں ، ہم نے الہ آباد ہائی کورٹ میں جو کہا ہے ، وہیں کہہ رہے ہیں ۔ ہم نے ایک حلف نامہ دائر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گواہوں کو تحفظ فراہم کرایا گیا ہے ۔ ہم نے سبھی 97 گواہوں سے رابطہ کیا ہے اور ان سبھی نے کہا کہ کوئی خطرہ نہیں ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: