உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UP MLC Elections Results 2022 :اترپردیش قانون ساز کونسل میں بھی بی جے پی کو سبقت کے آثار، آج آئے گا نتیجہ

    یوپی میں ایم ایل سی الیکشن کے آج آئیں گے نتائج۔

    یوپی میں ایم ایل سی الیکشن کے آج آئیں گے نتائج۔

    UP MLC Elections Results 2022 :نو اپریل کو ووٹنگ کے بعد نتائج آج منگل 12 اپریل کو آئیں گے۔ بی جے پی نے 36 میں سے 9 بلامقابلہ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ بی جے پی کو بقیہ 27 سیٹوں میں سے کم از کم 25 پر جیتنے کی امید ہے۔

    • Share this:
      لکھنو: UP MLC Elections Results 2022 :بھارتیہ جنتا پارٹی، جس نے لگاتار دوسری بار زبردست اکثریت کے ساتھ اتر پردیش اسمبلی انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے، اس کا ہدف قانون ساز کونسل کے رکن کے لیے 36 نشستیں ہیں۔ 9 اپریل کو ووٹنگ کے بعد نتائج آج منگل 12 اپریل کو آئیں گے۔ بی جے پی نے 36 میں سے 9 بلامقابلہ سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے، جبکہ بی جے پی کو بقیہ 27 سیٹوں میں سے کم از کم 25 پر جیتنے کی امید ہے۔

      بھارتیہ جنتا پارٹی اتر پردیش قانون ساز کونسل میں سب سے بڑی پارٹی بن کر تاریخ رقم کرنے جا رہی ہے۔ بی جے پی 35 ارکان کے ساتھ قانون ساز کونسل میں اب بھی سب سے بڑی پارٹی ہے۔ نو نشستوں پر بی جے پی کی جیت پہلے ہی طے ہو گئی تھی۔ بی جے پی نے پہلے ہی نو سیٹیں بلا مقابلہ جیت لی ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      مظفرپور میں رام نومی کے دوران مسجد پر زبردستی لہرایا گیا زعفرانی پرچم،Policeنے کی کارروائی

      2022 کے اسمبلی انتخابات میں 273 سیٹوں کے ساتھ زبردست اکثریت میں آنے والی بی جے پی نے بغیر مقابلہ کیے نو سیٹوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اب باقی 27 میں سے دو سیٹوں کو چھوڑ کر باقی سب بی جے پی کے کھاتے میں جانا یقینی ہے۔ اگر بی جے پی 36 میں سے 34 سیٹیں جیت لیتی ہے تو 100 رکنی قانون ساز کونسل میں بی جے پی کے 71 ممبر ہوں گے۔

      یہ بھی پڑھیں:
      Ramazan Special: فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی انوکھی مثال، گجرات کی قدیم مندر میں افطارکااہتمام

      2017 میں جب یوگی آدتیہ ناتھ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ بنے تو سماج وادی پارٹی قانون ساز کونسل میں سب سے بڑی پارٹی تھی۔ اس کے بعد جیسے جیسے انتخابات ہوتے گئے بی جے پی آگے بڑھتی رہی۔ کئی بار میعاد پوری ہونے کی وجہ سے تو کبھی ایس پی کے ممبران کے استعفیٰ کی وجہ سے قانون ساز کونسل کی سیٹیں خالی رہیں، جس پر بی جے پی کو جیت حاصل ہوئی۔ 1990 سے پہلے کانگریس ریاست میں قانون ساز اسمبلی کے دونوں ایوانوں میں واحد سب سے بڑی پارٹی ہوا کرتی تھی۔ اب یہ ٹیگ بی جے پی کے پاس ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: