உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Sitapur News: پی اے سی گیسٹ ہاوس میں پرینکا گاندھی کو کیسے ملی جھاڑو، کمرے میں کہاں سے آیا دھول، جانچ شروع

    Sitapur News: پی اے سی گیسٹ ہاوس میں پرینکا گاندھی کو کیسے ملی جھاڑو، کمرے میں کہاں سے آئی دھول، جانچ شروع

    Sitapur News: پی اے سی گیسٹ ہاوس میں پرینکا گاندھی کو کیسے ملی جھاڑو، کمرے میں کہاں سے آئی دھول، جانچ شروع

    Priyanka Gandhi at PAC Guest House: لکھیم پور کھیری (Lakhimpur Kheri) جاتے وقت پولیس (Police) حراست میں لی گئی کانگریس کی قومی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی (Priyanka Gandhi) کا پی اے سی گیسٹ ہاوس (PAC Guest House) میں جھاڑو لگانے کا معاملہ طول پکڑنے لگا ہے۔

    • Share this:
      سیتاپور: لکھیم پور کھیری (Lakhimpur Kheri) جاتے وقت پولیس (Police) حراست میں لی گئی کانگریس کی قومی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی (Priyanka Gandhi) کا پی اے سی گیسٹ ہاوس (PAC Guest House) میں جھاڑو لگانے کا معاملہ طول پکڑنے لگا ہے۔ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد کئی سوال اٹھ رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ انہیں جھاڑو کس نے دی اور وی آئی پی گیسٹ ہاوس کے کمرے میں دھول کہاں سے آئی۔ اب اس پورے معاملے کی جانچ بھی شروع ہوگئی ہے۔

      اطلاع کے مطابق، پرینکا گاندھی نے جس جھاڑو سے گیسٹ ہاوس کے اپنے کمرے میں صفائی کی تھی، وہ ان کے اسٹاف نے فراہم کرائی تھی۔ پرینکا گاندھی کے جھاڑو مانگنے پر اسٹاف نے گیسٹ ہاوس کے ایک ملازم سے جھاڑو لی تھی۔ اس معاملے میں پی اے سی کے افسران نے گیسٹ ہاوس کے ملازمین سے پوچھ گچھ کرنے کے بعد ایک رپورٹ بھی تیار کروائی گئی ہے۔ سیکنڈ کور پی اے سی کے جنرل یادویندر سنگھ نے بتایا کہ اب تک کی جانچ میں جو بات سامنے آئی ہے اس کے مطابق، پرینکا گاندھی کے اسٹاف نے ہی گیسٹ ہاوس کے ملازم سے جھاڑو مانگی تھی، جس کے بعد ان کے پی ایس او نے جھاڑو لگانے کا ویڈیو بنایا اور اسے وائرل کر دیا گیا۔



      روز ہوتی ہے کمروں کی صفائی

      واضح رہے کہ جس گیسٹ ہاوس میں پرینکا گاندھی کو رکھا گیا ہے، اس میں چار کمرے ہیں۔ چاروں کمروں کو صاف صفائی کے لئے ملازمین کی تعیناتی بھی ہے۔ کمرہ بُک ہو یا نہ ہو یہاں روزانہ صفائی کی جاتی ہے۔ پرینکا گاندھی کو بھی وی وی آئی پی پروٹوکول کے تحت رکھا گیا ہے، لیکن سوال یہ اٹھ رہا ہے کہ روز صفائی ہونے کے بعد بھی کمرے میں دھول کہاں سے آیا؟
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: