உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Lakhimpur Ruckus: پھر ہوگا کسان گروویندر سنگھ کا پوسٹ مارٹم، اب دہلی اور لکھنو کے ڈاکٹروں کی ہوگی ٹیم

    Lakhimpur Ruckus: پھر ہوگا کسان گروویندر سنگھ کا پوسٹ مارٹم، اب دہلی اور لکھنو کے ڈاکٹروں کی ہوگی ٹیم

    Lakhimpur Ruckus: پھر ہوگا کسان گروویندر سنگھ کا پوسٹ مارٹم، اب دہلی اور لکھنو کے ڈاکٹروں کی ہوگی ٹیم

    لکھیم پور میں ہوئی کسانوں کے موت کے بعد اب تنازعہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ مہلوک کسنان گرویندر سنگھ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گڑبڑی کی بات کہہ کر اہل خانہ پھر سے پوسٹ مارٹم کروانے کی بات کر رہے ہیں۔

    • Share this:
      بہرائچ: لکھیم پور میں ہوئی کسانوں کے موت کے بعد اب تنازعہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ مہلوک کسنان گرویندر سنگھ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں گڑبڑی کی بات کہہ کر اہل خانہ پھر سے پوسٹ مارٹم کروانے کی بات کر رہے ہیں۔ اہل خانہ نے وزیر کے بیٹے پر کار چڑھانے کا الزام لگایا ہے اور پوسٹ مارٹم میں لاپرواہی کی بات کہی ہے۔ اب بتایا جا رہا ہے کہ گرویندر سنگھ کی لاش کا پوسٹ مارٹم ایک بار پھر ہوگا اور اس بار دہلی اور لکھنو کے ڈاکٹر اسے کریں گے۔ وہیں اہل خانہ کا یہ بھی الزام ہے کہ پوسٹ مارٹم کی ویڈیو گرافی نہیں کی گئی ہے۔ وہیں اہل خانہ نے مطالبہ کیا ہے کہ کسی دیگر ریست میں گرویندر سنگھ کی لاش کی پوسٹ مارٹم کرائی جائے۔ ساتھ ہی اب راکیش ٹکیٹ کے اہل خانہ کسان کے گھر پہنچنے کی بھی خبر آرہی ہے۔ بتایا جارہا ہے کہ وہ بہرائچ پہنچ کر آگے کے فیصلے کے بارے میں بتائیں گے۔

      وہیں اس سے قبل بہرائچ میں اس معاملے کو لے کر سیاست تیز ہوگئی ہے۔ مہلوک کسانوں کے حق میں دھرنے پر بیٹھیں سابق رکن پارلیمنٹ ساوتری بائی پھولے کو پولیس نے حراست میں لے لیا تھا۔ وہ مہلوک کسان کے گھر کے پاس ہی دھرنے پر بیٹھی تھیں۔ وہیں مہلوک کسانوں کے گھر پر الگ الگ پارٹی کے کارکنان کا آنا مسلسل جاری ہے۔

      واضح رہے کہ لکھیم پور کے حادثہ میں 4 کسانوں، 2 بی جے پی کارکنان، مرکزی وزیرمملکت برائے داخلہ اجے مشرا ٹینی کے ڈرائیور اور مقامی صحافیوں کی موت کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی ہے۔ اس میں کسی کی موت گھسیٹنے سے تو کسی کی لاٹھی ڈنڈوں کی پٹائی سے موت ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق، کسی کی بھی موت گولی لگنے کی وجہ سے نہیں ہوئی ہے۔ پوسٹ مارٹم کے بعد سبھی لاشوں کو ان کے اہل خانہ کو سونپ دیا گیا۔  ان میں دو کسانوں اور چار دیگر کی آخری رسوم پیر کی دیر شام منگل کی صبح سخت سیکورٹی انتظامات کے دوران کی گئی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: