ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اترپردیش میں 30-2021 تک آبادی پر قابو پانے کے لیے نئی پالیسی کا ہوگا آغاز!

اترپردیس میں آبادی پر کنٹرول کی مجوزہ پالیسی کا مقصد خاندانی منصوبہ بندی پروگرام کے تحت جاری مانع حمل اقدامات کی رسائ کو بڑھانا اور محفوظ اسقاط حمل کا ایک مناسب نظام مہیا کرنا ہے۔

  • Share this:
اترپردیش میں 30-2021 تک آبادی پر قابو پانے کے لیے نئی پالیسی کا ہوگا آغاز!
وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ

عالمی یوم آبادی (11 جولائی 2021) کے موقع پر اتر پردیش میں یوگی آدتیہ ناتھ (Yogi Adityanath) حکومت 30-2021 تک آبادی پر قابو پانے کے بارے میں اپنی نئی پالیسی کی نقاب کشائی کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے آبادی پر قابو پانے کے لئے کمیونٹی مرکوز طرز عمل اپنانے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ لوگوں کو بہتر سہولیات میسر آسکیں اور ریاست کو صحیح طور پر ترقی دی جاسکے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ غربت اور ناخواندگی آبادی میں اضافے کے سب سے بڑے عوامل ہیں۔ کچھ فرقوں میں آبادی کے بارے میں آگاہی کا فقدان ہے اور اس لئے ہمیں برادری پر مبنی بیداری کی کوششوں کی ضرورت ہے۔


ایک حکومتی ترجمان کے مطابق ریاست میں اس وقت شرح پیدائش 2.7 فیصد ہے جبکہ یہ عملی طور پر 2.1 فیصد سے کم ہونا چاہئے ۔ بیشتر ریاستوں نے اترپردیش اور بہار کو چھوڑ کر اس کو حاصل کرلیا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ یہ پالیسی آبادی پر قابو پانے کے پانچ جہتی نقطہ نظر پر عمل کرے گی اور اس میں صحت کو بہتر بنانے پر بھی توجہ دی جارہی ہے۔ اترپردیس میں آبادی پر کنٹرول کی مجوزہ پالیسی کا مقصد خاندانی منصوبہ بندی پروگرام کے تحت جاری مانع حمل اقدامات کی رسائ کو بڑھانا اور محفوظ اسقاط حمل کا ایک مناسب نظام مہیا کرنا ہے۔


ترجمان نے کہا کہ ’’دوسری طرف عدم استحکام اور بانجھ پن کے حل فراہم کرنے اور صحت کی بہتر سہولیات کے ذریعے بچوں اور زچگی کی شرح اموات میں کمی کے ذریعہ آبادی کو مستحکم کرنے کی کوشش کی جائے گی‘‘۔ پالیسی کا ایک اور طبقہ بوڑھوں کی دیکھ بھال کے لئے جامع انتظامات پر توجہ دے گا جبکہ 11 اور 19 سال کے درمیان نوعمروں کی تعلیم ، صحت اور تغذیہ کے بہتر انتظام پر بھی توجہ دی جائے گی۔


یہ پالیسی مختلف حکمت عملیوں پر غور کرے گی اور آبادی پر قابو پانے کی کوششوں کو بہتر بنانے اور صحت میں بہتری لانے کے لئے موجودہ اسکیموں کے کی سمت کام کرے گی۔ اسکولوں میں ہیلتھ کلب قائم کیے جائیں گے اور نومولود ، نوعمروں اور عمر رسیدہ افراد کے لئے ڈیجیٹل ٹریکنگ کی جائے گی۔ ’’نئی پالیسی کو حتمی شکل دینے کے دوران تمام برادریوں میں آبادیاتی توازن برقرار رکھنے ، صحت کی جدید سہولیات کی آسانی سے فراہمی کو یقینی بنانے اور مناسب غذائیت کے ذریعہ زچگی اور بچوں کی اموات کی شرح کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی‘‘۔ ترجمان نے مزید کہا کہ نئی پالیسی کے مقاصد کو پائیدار ترقیاتی اہداف کی روح میں شامل کیا جائے گا۔

دریں اثنا ایڈیشنل چیف سکریٹری (اے سی ایس) ، صحت امیت موہن پرساد (Amit Mohan Prasad) نے کہا کہ ریاست کی آبادی کی پالیسی متعدد رپورٹس کا مطالعہ کرنے کے بعد تیار کی جارہی ہے، جس میں نیشنل فیملی ہیلتھ سروے (National Family Health Survey ) -04 بھی شامل ہے۔

این ایف ایچ ایس -05 کو جلد ہی جاری کیا جانا ہے اور اس لئے دو مراحل 2026 اور 2030 کے لئے اہداف طے کیے جائیں گے۔

ادھر یوپی لاء کمیشن کے چیئرمین جسٹس اے این۔ متل حکومت کی ریاست میں بڑھتی آبادی کو روکنے میں مدد کے لئے ایک مسودہ قانون بھی تیار کررہے ہیں۔ جسٹس متل نے کہا کہ مسودہ قانون آئندہ دو ماہ میں تیار کیا جائے گا اور اس کی رپورٹ ریاستی حکومت کو پیش کی جائے گی‘‘۔
Published by: Mohammad Rahman Pasha
First published: Jul 09, 2021 07:32 PM IST