உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UP Assembly Election 2022: سماجوادی-آر ایل ڈی اتحاد سے کیوں ناراض نظر آرہے ہیں مظفر نگر کے مسلمان؟

    سماجوادی-آر ایل ڈی اتحاد سے کیوں ناراض نظر آرہے ہیں مظفر نگر کے مسلمان؟

    سماجوادی-آر ایل ڈی اتحاد سے کیوں ناراض نظر آرہے ہیں مظفر نگر کے مسلمان؟

    اترپردیش اسمبلی انتخابات (Uttar Pradesh Assembly Election) کے لئے سماجوادی پارٹی (Samajwadi Party) اور راشٹریہ لوک دل (Rashtriya Lok Dal) کے ٹکٹ تقسیم کو لے کر مظفر نگر (Muzaffarnagar) میں مسلم طبقے میں ناراضگی نظر آرہی ہے۔ دوسری طرف اپوزیشن بھی اس موضوع کو زوروشور سے اچھال رہا ہے۔

    • Share this:
      مظفر نگر: اترپردیش اسمبلی انتخابات (Uttar Pradesh Assembly Election) کے لئے سماجوادی پارٹی (Samajwadi Party) اور راشٹریہ لوک دل (Rashtriya Lok Dal) کے ٹکٹ تقسیم کو لے کر مظفر نگر (Muzaffarnagar) میں مسلم طبقے میں ناراضگی نظر آرہی ہے۔ اس ضلع کے چھ انتخابی حلقوں میں تقریباً 38 فیصد مسلم رائے دہندگان ہیں، لیکن سماجوادی پارٹی -آر ایل ڈی اتحاد نے اب تک یہاں سے ایک بھی مسلم امیدوار کو میدان میں نہیں اتارا ہے۔

      سماجوادی-آر ایل ڈی اتحاد (SP-RLD Alliance) ضلع کی چھ میں سے پانچ سیٹوں پر امیدواروں کا اعلان کرچکی ہے، جو کہ سبھی ہندو ہیں۔ اب سب کی نظریں شہر کی واحد سیٹ پر مرکوز ہیں۔ ذرائع کادعویٰ ہے کہ ’پولرائزیشن سے بچنے کے لئے‘ دونوں پارٹیاں یہاں بھی امیدوار کو ہی ٹکٹ دیں گے۔

      ایسے میں مظفر نگر میں مسلمانوں کے ایک طبقے کو یہ بات پسند نہیں آرہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آر ایل ڈی لیڈر گزشتہ دو سالوں کے دوران ’بھائی چارہ‘ کو فروغ دینے کے لئے بڑی بڑی باتیں کرتے تھے اور کسان آندولن کے دوران جاٹ-مسلم اتحاد کی دہائی دیتے ہوئے نہیں تھکتے تھے۔ ایسے میں مسلمانوں کو نظر انداز کیا جانا بہت کھٹک رہا ہے۔

      قادر رانا، مرسلین رانا، لیاقت علی جیسے کئی اہم مسلم لیڈر الیکشن لڑنا چاہتے تھے، اب ’'نظر انداز اور مسترد' محسوس کرتے ہیں۔ سماجوادی پارٹی کے بڑے مسلم لیڈر جہاں اسے دھوکہ قرار دے رہے ہیں، تو وہیں پارٹی کے ہی نوجوان کارکنان کا کہنا ہے کہ اکھلیش یادو نے مسلمانوں کو ٹکٹ نہ دے کرصحیح فیصلہ کیا۔ اس سے بی جے پی کو پولرائزیشن کا موقع نہیں مل پائے گا۔ وہیں سماجوادی پارٹی کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی مذہب کی بنیاد پر کسی کو ٹکٹ نہیں دیتی ہے۔ جبکہ آر ایل ڈی ترک دے رہی ہے کہ شاملی اور مظفر نگر کو ایک ہی مانا جاتا ہے اور پارٹی نے وہاں سے دو مسلم امیدواروں کو ٹکٹ دیا ہے۔

      دوسری طرف اپوزیشن بھی اس موضوع کو زوروشور سے اچھال رہا ہے۔ بی ایس پی نے مظفر نگر کی دو سیٹوں پر مسلم امیدواروں کا اعلان کیا ہے، جبکہ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) مسلم لیڈروں کو ٹکٹ دینے پر بھی غور کر رہی ہے۔ وہیں بی جے پی لیڈر ضیا الرحمٰن کہتے ہیں، ’سماجوادی یوں تو منہ سے مسلمانوں کا بڑا ہمدرد بنتی ہے، لیکن جب الیکشن میں نمائندگی کی بات آتی ہے تو مسلمانوں کو ایک بھی سیٹ نہیں دی۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: