پارلیمنٹ ٹھپ ہونے پر پھوٹا اڈوانی کا غصہ، کہا، دل کرتا ہے لوک سبھا سے استعفی دے دوں

پارلیمنٹ میں نوٹ بندی پر بحث کرانے کے لئے جاری ہنگامہ کی وجہ سے کام کاج نہیں ہونے سے دل گرفتہ بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے آج نہایت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کی صورت حال دیکھ کر انہیں لگتا ہے کہ اب استعفی دے دینا چاہئے۔

Dec 15, 2016 03:34 PM IST | Updated on: Dec 15, 2016 03:34 PM IST
پارلیمنٹ ٹھپ ہونے پر پھوٹا اڈوانی کا غصہ، کہا، دل کرتا ہے لوک سبھا سے استعفی دے دوں

نئی دہلی۔ لوک سبھا میں سرمائی اجلاس کے آغاز سے ہی نوٹ بندی پر بحث کرانے کے لئے جاری ہنگامہ کی وجہ سے کام کاج نہیں ہونے سے دل گرفتہ بی جے پی کے سینئر لیڈر لال کرشن اڈوانی نے آج نہایت مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایوان کی صورت حال دیکھ کر انہیں لگتا ہے کہ اب استعفی دے دینا چاہئے۔ نوٹ بندی پر زبردست ہنگامہ کی وجہ سے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لئے ملتوی ہونے کے بعد بھی مسٹر اڈوانی سیٹ پر بیٹھے رہے۔ انہوں نے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کو اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا ۔ اس دوران ریلوے کے وزیر مملکت منوج سنہا، شہری ہوابازی کے وزیر مملکت جینت سنہا بھی ان کے پاس آکر کھڑے ہوگئے۔انہوں نے مسٹر سنگھ سے کہا کہ ایوان کی کارروائی کم سے کم ایک دن تو چلنی ہی چاہئے۔ اسپیکر کو میری طرف سے بتا دیجئے کہ ایوان ایک دن ہی سہی ضرور چلنا چاہئے۔

اسی دوران ترنمول کانگریس کے ادریس علی ، بی جے پی کے نانا پوٹلے اور کچھ دیگر اراکین مسٹر اڈوانی کی سیٹ کے پاس پہنچ گئے۔ مسٹر ادریس نے بی جے پی لیڈرکے بغل میں بیٹھ کر ان سے ایوان میں ہوئے ہنگامے کے سلسلے میں بات چیت شروع کردی۔ مسٹر اڈوانی نے کہا کہ ایوان میں ایک دن بھی کام نہیں ہوا۔ یہ اچھا نہیں ہے۔ اس سے غلط پیغام جائے گا۔ کم سے کم ایک دن تو ایوان چلنا ہی چاہئے۔ کام کاج کے بغیر ایوان کا غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہونا ٹھیک نہیں ہے۔ اس طرح کے حالات ایوان زیریں میں کبھی نہیں بنے تھے۔

مسٹر ادریس علی نے ان سے کچھ سوال کیا تو مسٹر اڈوانی نے کہا کہ سوال کسی کی ہار جیت کا نہیں ہے ۔ جیت صرف پارلیمانی روایت کی ہونی چاہئے او رپارلیمنٹ چلتی رہنی چاہئے۔

Loading...

Loading...