ٹرمپ کے بیان پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ، وزیر خارجہ بولے۔ وزیر اعظم مودی نے نہیں پیش کی ایسی کوئی تجویز

آنند شرما اور ڈی راجہ نے امریکی صدر ٹرمپ کے بیان پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے اتحاد اور سالمیت سے منسلک مسئلہ ہے اور خود وزیر اعظم نریندر مودی کو ایوان میں اس پر پوزیشن واضح کرنی چاہئے۔

Jul 23, 2019 12:52 PM IST | Updated on: Jul 23, 2019 12:54 PM IST
ٹرمپ کے بیان پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ، وزیر خارجہ بولے۔ وزیر اعظم مودی نے نہیں پیش کی ایسی کوئی تجویز

راجیہ سبھا میں بولتے ہوئے وزیر خارجہ ایس جے شنکر

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے کشمیر کے معاملہ پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کرنے سے متعلق بیان پر اپوزیشن پارٹیوں نے آج راجیہ سبھا میں جم کر ہنگامہ کیا اور وزیر اعظم نریندر مودی سے پوزیشن واضح کرنے کی مانگ کی جس سے ایوان کی کارروائی بارہ بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔

چیئرمین ایم ونکیا نائیڈو نے قانون سازی کے دستاویزات ایوان میں ركھوانے کے بعد کہا کہ انہیں کانگریس کے آنند شرما اور ہندوستانی کمیونسٹ پارٹی کے ڈی راجہ کے  ٹرمپ کے بیان پر قوانین 267 کے تحت نوٹس ملے ہیں لیکن انہوں نے انہیں مسترد کر دیا ہے لیکن ممبران وقفہ صفر میں اپنی بات رکھ سکتے ہیں۔ نائیڈو نے کہا کہ یہ انتہائی حساس اور ملک کے اتحاد سے منسلک مسئلہ ہے جس پر پورے ملک اور دونوں ایوانوں کی جانب سے صرف ایک ہی پیغام جانا چاہئے۔

شرما اور راجہ نے امریکی صدر ٹرمپ کے بیان پر شدید اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کے اتحاد اور سالمیت سے منسلک مسئلہ ہے اور خود وزیر اعظم نریندر مودی کو ایوان میں اس پر پوزیشن واضح کرنی چاہئے۔

Loading...

اس کے بعد وزیر خارجہ ایس جے شنكر نے اس معاملہ پر اپنا بیان دیتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے  ٹرمپ کے سامنے کبھی بھی اس طرح کی تجویز نہیں پیش کی اور اس معاملہ پر ہندوستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ اپوزیشن رکن اس سے مطمئن نہیں ہوئے اور انہوں نے کہا کہ خود وزیر اعظم نریندر مودی کو اس بارے میں صورت حال واضح کرنی چاہئے۔ کانگریس، ترنمول کانگریس، سماجوادی پارٹی اور بایاں محاذ کے رکن اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر وزیر اعظم کے بیان کا مطالبہ کرنے لگے۔

نائیڈو نے کہا کہ اراکین کو اپنے وزیر خارجہ کے بجائے امریکی صدر کے بیان پر زیادہ یقین ہے۔ انہوں نے ارکان سے کہا کہ وہ ملکی مفاد کے اس مسئلہ پر سیاست نہ کریں اور ان کے اس رویہ سے غلط پیغام جا رہا ہے۔ اس پر ترنمول کانگریس کے ایوان میں رہنما ڈیریک او برائن نے کچھ کہا جس پرچیئرمین مشتعل ہو گئے اور انہوں نے ایوان کی کارروائی بارہ بجے تک ملتوی کر دی۔

Loading...