ہوم » نیوز » وطن نامہ

پنجاب یونیورسٹی میں اردوزبان کے ساتھ تعصب،اردوکوغیرملکی زبانوں کے شعبوں میں کیاگیاضم

اردوکوپنجاب یونیورسٹی میں غیرملکی زبانوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ یونیورسٹی کے ڈین نے سرکولر جاری کرکے اردوکوغیر ملکی زبانوں کے شعبوں میں ضم کردیا ہے۔ جس پرشعبہ اردو کے صدر نےبھی اس فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے۔انہوں نے خط لکھ کرکہا ہے کہ اردو غیرملکی نہیں بلکہ ہندوستانی زبان ہے۔

  • Share this:
پنجاب یونیورسٹی میں اردوزبان کے ساتھ تعصب،اردوکوغیرملکی زبانوں کے شعبوں میں کیاگیاضم
علامتی تصویر

دانش گاہوں میں اردو کی موجودہ صورت حال سے سبھی واقف ہیں۔ اردو کو کہیں اپنوں کی بے مروتی کا سامنا ہے، تو کہیں غیروں کے ذریعہ اردو کی حق تلفی کی جارہی ہے۔ پنجاب یونیورسٹی سے اردو ذریعہ تعلیم ختم کئے جانے کی خبرکو نیوز18 اردو نے ترجیحی بنیاد پرنشرکیاتھا۔ جس کے بعد ریاست میں زیر اقتدارکانگریس کے ہی ایک رکن اسمبلی راجکمارویرکا نے پنجاب یونیورسٹی کے اس فیصلے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔کانگریس رکن اسمبلی نے اس فیصلے کیلئے آرایس ایس کوذمہ دار قراردیا۔


المیہ یہ ہے کہ اردوکوپنجاب یونیورسٹی میں غیرملکی زبانوں کے زمرے میں رکھا گیا ہے۔ یونیورسٹی کے ڈین نے سرکولر جاری کرکے اردوکوغیر ملکی زبانوں کے شعبوں میں ضم کردیا ہے۔ جس پرشعبہ اردو کے صدر نےبھی اس فیصلے کی سخت مخالفت کی ہے۔انہوں نے خط لکھ کرکہا ہے کہ اردو غیرملکی نہیں بلکہ ہندوستانی زبان ہے۔




اس تعلق سےمشہورکوی کمار وشواس نےٹویٹ کیاہے۔اورپنجاب کےوزیراعلیٰ کیپٹنگ امریندرسنگھ پرطنزکرتے ہوئے ایک خوبصورت شعرپیش کیاہے۔ کمار وشواس نے ٹویٹ پرلکھا کہ قتل اردوکابھی ہوتاہےاوراس نسبت سے، لوگ اردوکومسلمان سمجھ لیتےہیں۔کماروشواس نےکہاکہ اردوکی پیدائش ہندوستان میں ہوئی ہے۔اوریہ یہیں پلی بڑھی ہے۔کمار وشواس لکھاہےکہ سنت،کویوں کی کٹیا اورپیروں۔فقیروں کےحجرےمیں رواں ہوئی ہے۔امید ہےکہ اس پراسرا زبان کی کیپٹن امریندرسنگھ حفاظت کریں گے۔پنجاب یونیورسٹی کے اس تعصب نے سوچنے پرمجبورکردیا ہے۔اب یہ دیکھناہوگاکہ اردو والے کیا قدم اٹھاتے ہیں۔ جبکہ یہ کوئی نیا معاملہ نہیں بلکہ گزشتہ دیڑھ برسوں سے چلا آرہا ہے۔
First published: Sep 29, 2019 03:53 PM IST