உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    USCIRF Report:امریکی وزارت خارجہ کی رپورٹ میں دعویٰ-’سال2021 میں ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں پر ہوئے حملے‘

    ہندوستان کی اقلیتوں پر حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی رپورٹ میں دعویٰ۔

    ہندوستان کی اقلیتوں پر حملوں کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔ امریکی رپورٹ میں دعویٰ۔

    US State Department Report 2021: ہندوستان نے پہلے امریکی مذہبی آزادی رپورٹ کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیاتھا کہ کسی غیر ملکی حکومت کی جانب سے ا پنے شہریوں کے آئینی طور پر محفوظ حقوق کے بارے میں بولنے کا انہیں کوئی حق نہیں ہے۔

    • Share this:
      US State Department Report 2021: امریکی وزیر خارجہ اینٹونی بلنکن(Antony Blinken) نے ہندوستان میں مذہبی آزادی پر تبصرہ کیا ہے۔ یو ایس سی آئی آر ایف (United States Commission on International Religious Freedom) کی رپورٹ جاری کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت اور بہت سے مذاہب کا گھر سمجھے جانے والے ہندوستان میں لوگوں اور ان کے مذہبی مقامات پر حملے کے واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

      انٹونی بلنکن نے اس کے ساتھ ہی پاکستان کا نام لیتے ہوئے کہا کہ’سال 2021 میں تقریباً 16 لوگوں کو توہین مذہب قانون کے تحت موت کی سزا پاکستانی عدالتوں نے دی ہے۔‘

      USCIRF کی رپورٹ میں ہندوستان سے متعلق کہا گیا ہے کہ سال 2021 کے دوران ہندوستان میں مذہبی آزادی سے متعلق حالات میں کافی گراوٹ آئی ہے۔ اس دوران ہندوستان میں حکومت نے اپنے ہندو قوم پرست ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا عمل تیز کر دیا جس کے منفی اثرات مسلمانوں، سکھوں، عیسائیوں، دلتوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں پر مرتب ہوئے ہیں۔

      رپورٹ میں آگے کہا گیا ہے کہ حکومت نے اپنی ہندوراشٹر نظریات کو سسٹم میں ڈھالنے کی کوششیں قومی و ریاستی سطح پر پرانے اور نئے قوانین کے ذریعے کیے، جو اقلیتوں کے خلاف ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں:
      India on Terrorism:دہشت گردی کے خلاف ہندوستان نے مضبوطی سے رکھا اپنا موقف

      یہ بھی پڑھیں:
      India and Pakistan Relation:کیا شہباز دور میں ہند-پاک کے رشتوں میں آئے گی نرمی؟

      ہندوستان نے پہلے امریکی مذہبی آزادی رپورٹ کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیاتھا کہ کسی غیر ملکی حکومت کی جانب سے ا پنے شہریوں کے آئینی طور پر محفوظ حقوق کے بارے میں بولنے کا انہیں کوئی حق نہیں ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: