ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

رام مندر نرمان ٹرسٹ میں ناموں کو لے کر سادھو سنتوں میں گھمسان ، اکھاڑا پریشد نے اٹھایا سوال

حکومت نے آر ایس ایس کے قریبی مہنت نرتیہ گوپال داس کو صدر اور وشو ہندو پریشد کے نائب صدر چمپت رائے کو ٹرسٹ کا جنرل سکریٹری مقرر کیا ہے ۔

  • Share this:
رام مندر نرمان ٹرسٹ میں ناموں کو  لے کر سادھو سنتوں میں گھمسان ، اکھاڑا پریشد نے اٹھایا سوال
رام مندر نرمان ٹرسٹ میں ناموں کو لے کر سادھو سنتوں میں گھمسان ، اکھاڑا پریشد نے اٹھایا سوال

الہ آباد : ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کیلئے حکومت کی طرف سے تشکیل دئے جانے والے ’’ شری رام مندر تیرتھ چھیتر ٹرسٹ ‘‘ میں عہدے داروں کے اعلان کے ساتھ ہی سادھو سنتوں کے درمیان ناموں کو لے کر نیا تنازعہ اٹھ کھڑا ہوگیا ہے ۔ حکومت نے آر ایس ایس کے قریبی مہنت نرتیہ گوپال داس کو صدر اور وشو ہندو پریشد کے نائب صدر چمپت رائے کو ٹرسٹ کا جنرل سکریٹری مقرر کیا ہے ۔ ان دونوں ناموں کو لیکر سادھو سنتوں کی نمائندہ تنظیم اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ رام مندر تحریک میں اہم کردار نبھانے والے اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد نے حکومت کی جانب سے رام مندر نرمان ٹرسٹ میں ہونے والی ان تقرریوں پر سوالات اٹھائے ہیں۔

رام مندر نرمان ٹرسٹ میں اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد کو شامل نہ کئے جانے پر اکھاڑا پریشد نے اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے ۔ اکھاڑا پریشد کے صدر مہنت نریندر گری نے مرکزی حکومت کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ رام مندر نرمان ٹرسٹ میں اکھاڑا پریشد کے کم از کم دو نمائندوں کو ضرور شامل کیا جانا چاہئے۔ نریندر گری کا یہ بھی کہنا ہے کہ رام مندر کی تحریک میں اکھاڑا پریشد کے سادھو سنتوں نے اہم رول ادا کیا ہے ، ایسے میں حکومت کواکھاڑا پریشد کی خدمات کو قطعی نظر انداز نہیں کرنا چاہئے ۔ مہنت نریندر گری نے یہ بھی کہا کہ رام مندر کی تعمیر کیلئے بنائے جانے والے ٹرسٹ میں سادھو سنتوں کو سب سے زیادہ نمائندگی ملنی چاہئے ۔

تاہم مہنت نریندر گری نے نو تشکیل شدہ ٹرسٹ کی کھل کر مخالفت نہ کرنے فیصلہ کیا ہے ۔ تاہم انہوں نے اپنی ناراضگی کھل کر ظاہر کر دی ہے ۔ مہنت نریندر گری کی دلیل ہے کہ اکھل بھارتیہ اکھاڑا پریشد ملک کے تیرہ اکھاڑوں پر مشتمل سادھو سنتوں کی نمائندہ جماعت ہے ۔ لہٰذا ایودھیا میں رام مندر کی تعمیر کیلئے تشکیل پانے والے ٹرسٹ میں سادھوں سنتوں کو نظر انداز کر دینا کسی صورت بھی صحیح نہیں ہے ۔

First published: Feb 20, 2020 10:21 PM IST
  • India
  • World

India

  • Active Cases

    6,039

     
  • Total Confirmed

    6,761

     
  • Cured/Discharged

    515

     
  • Total DEATHS

    206

     
Data Source: Ministry of Health and Family Welfare, India
Hospitals & Testing centres

World

  • Active Cases

    1,205,178

     
  • Total Confirmed

    1,680,527

    +76,875
  • Cured/Discharged

    373,587

     
  • Total DEATHS

    101,762

    +6,070
Data Source: Johns Hopkins University, U.S. (www.jhu.edu)
Hospitals & Testing centres