உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سر پر ٹوپی اور لمبی داڑھی .... ورت رکھنے والوں کو اپنی دکان پر فری میں جوس پلاتے ہیں محمد شبیر

    سر پر ٹوپی اور لمبی داڑھی .... ورت رکھنے والوں کو اپنی دکان پر فری میں جوس پلاتے ہیں محمد شبیر

    سر پر ٹوپی اور لمبی داڑھی .... ورت رکھنے والوں کو اپنی دکان پر فری میں جوس پلاتے ہیں محمد شبیر

    Aligarh News: ملک اور ریاست میں نوراتر اور دسہرے کو لے کر ہر کوئی اپنے اپنے طریقے سے ماتا کی خدمت میں لگا ہوا ہے ۔ ویسے تو ہندو لوگ ورت رکھتے ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں، جنہیں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال پیش کرکے سکون حاصل ہوتا ہے ۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Aligarh | Uttar Pradesh | Lucknow
    • Share this:
      علی گڑھ : ملک اور ریاست میں نوراتر اور دسہرے کو لے کر ہر کوئی اپنے اپنے طریقے سے ماتا کی خدمت میں لگا ہوا ہے ۔ ویسے تو ہندو لوگ ورت رکھتے ہیں، لیکن کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں، جنہیں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی مثال پیش کرکے سکون حاصل ہوتا ہے ۔ اے ایم یو کی مولانا آزاد لائبریری کی کینٹین کے پاس جوس کارنر چلانے والے محمد شبیر بھی انہیں لوگوں میں سے ایک ہیں ۔

      دراصل لائبریری میں ہر دن کئی طلبہ پڑھائی کیلئے آتے ہیں، اس میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ماتا کیلئے ورت رکھے ہوتے ہیں ۔ ایسے میں جب یہ طلبہ جوس منگواتے ہیں تو محمد شبیر تھرماکول کے گلاس میں جوس لے کر جاتے ہیں اور پلاتے ہیں ۔ سب سے خاص بات یہ ہے کہ شبیر ورت کرنے والے طلبہ سے جوس کا پیسہ بھی نہیں لیتے ہیں ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: اتراکھنڈ میں بڑا حادثہ، کھائی میں گری باراتیوں سے بھری بس، کم از کم 30 اموات کا اندیشہ


      NEWS18 LOCAL سے محمد شبیر بتاتے ہیں کہ وہ 32 سالوں سے جوس کارنر چلا رہے ہیں۔ ان کے لئے سبھی مذاہب معنی رکھتے ہیں ۔ ایسے میں ورت رکھنے والے طلبہ کی خدمت کرکے انہیں سکون ملتا ہے ۔ وہ اپنے دن کی شروعات نماز ادا کرکے کرتے ہیں ۔ پھر صبح آٹھ بجے تک جوس کارنر پر پہنچ جاتے ہیں اور دیر شام تک جوس بیچتے ہیں ۔ ان کے یہاں موسم کے حساب سے پھلوں کا جوس ملتا ہے ۔ ان کے یہاں کئی طرح کے جوس ملتے ہیں، مگر موجودہ موسم میں طلبہ سب سے زیادہ مکس جوس اور موسمی کے جوس کی ڈیمانڈ کرتے ہیں اور اس کیلئے طلبہ و طالبات پورے دن لائن لگائے رہتے ہیں ۔ کیمپس میں سبھی امور پر طلبہ و طالبات یہیں آکر گفتگو بھی کرتے ہیں ۔

       

      یہ بھی پڑھئے: وزیر اعظم مودی نے یوکرین کے صدر سے کی بات، روس سے جنگ ختم کرانے میں مدد کا دیا آفر


      محمد شبیر بتاتے ہیں کہ یونیورسٹی میں میری شناخت طلبہ کی وجہ سے ہی بنی ہوئی ہے ۔ میں انہیں ہندو ۔ مسلم کی نظر سے نہیں دیکھتا ۔ میرے لئے سبھی پڑھائی کرنے والے ہیں ۔ نوراتر میں جو ہندو طلبہ ورت رکھتے ہیں، ان سے پیسے لینے کی اجازت میرا ضمیر نہیں دیتا ہے ۔ دن میں 15 سے 20 ہندو طلبہ کو جوس پلا دیتا ہوں، اس سے بڑی خوشی ملتی ہے ۔

      یہی نہیں، ورت نہ رکھے ہوئے کسی طالب علم کے پاس اگر پیسہ نہیں ہوتا ہے تو بھی جوس پلا دیتا ہوں ۔ کئی مرتبہ تو طلبہ شبیر سے پیسے تک ادھار لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب نوکری مل جائے گی تو لوٹا دیں گے ۔ شبیر کی یہی عادت لوگوں کو اپنی طرف کھینچتی ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: