உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ٹرانسجینڈر بھی لے سکتے ہیں بچے کو گود، شادی کا رجسٹریشن ضروری نہیں، HC کا بڑا فیصلہ

    ٹرانسجینڈر بھی لے سکتے ہیں بچے کو گود، شادی کا رجسٹریشن ضروری نہیں، HC کا بڑا فیصلہ

    ٹرانسجینڈر بھی لے سکتے ہیں بچے کو گود، شادی کا رجسٹریشن ضروری نہیں، HC کا بڑا فیصلہ

    ٹرانسجینڈر (transgenders) بچے کو گود لے سکتے ہیں یا نہیں ، اس پر فیصلہ ہوگیا ہے ۔ الہ آباد ہائی کورٹ (Allahabad High Court) نے ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ ہے اب ٹرانسجینڈر بھی بچے کو گود لے سکتے ہیں ۔

    • Share this:
      پریاگ راج : ٹرانسجینڈر (transgenders) بچے کو گود لے سکتے ہیں یا نہیں ، اس پر فیصلہ ہوگیا ہے ۔ الہ آباد ہائی کورٹ  (Allahabad High Court) نے ایک اہم فیصلہ دیتے ہوئے کہا کہ ہے اب ٹرانسجینڈر بھی بچے کو گود لے سکتے ہیں ۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے یہ تبصرہ بھی کیا کہ بچے کو گود لینے کیلئے شادی کا رجسٹریشن ضروری نہیں ۔ کورٹ کے اس حکم سے ٹرانسجینڈر خاتون بھی بچے کو گود لے سکتی ہیں ۔

      ایک ٹرانسجینڈر خاتون رینا کنر اور ان کے شوہر کی جانب سے داخل عرضی پر ہائی کورٹ نے کہا کہ سنگل ماں باپ ، ہندو ایڈاپشن اینڈ مینٹیننس ایکٹ 1956 کے تحت کسی بھی بچے کو گود لے سکتا ہے ۔ جسٹس ڈاکٹر کوشل جیندر ٹھاکر اور جسٹس وویک ورما کی بینچ نے یہ حکم دیا ۔

      بتادیں کہ عرضی میں ٹرانسجینڈر جوڑے کو شادی کو رجسٹرڈ کرنے کیلئے آن لائن درخواست پر ڈپٹی رجسٹرار وارانسی کو غور کرنے کا حکم جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا ۔

      دراصل اس ٹرانسجینڈر جوڑے کو ایک بچہ گود لینا تھا، مگر میریج سرٹیفکیٹ پر بات اٹک گئی تھی ۔ مگر اب کورٹ نے واضح کردیا ہے کہ اس کی ضرورت نہیں ہوگی ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: