ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

دیوبند : خواتین کے احتجاجی دھرنے کو حاصل ہو رہی ہے سماجی افراد اور طالبات کی حمایت

میرٹھ کے علما اور سماجی تنظیموں کے ذمہ داران کے مطابق دھرنے پر بیٹھی خواتین اپنے آئینی حق کے تحت احتجاج کر رہی ہیں اور ان کوں سماج کے ہر طبقے کی حمایت اور تعاون حاصل ہے ۔

  • Share this:
دیوبند : خواتین کے احتجاجی دھرنے کو حاصل ہو رہی ہے سماجی افراد اور طالبات کی حمایت
دیوبند : خواتین کے احتجاجی دھرنے کو حاصل ہو رہی ہے سماجی افراد اور طالبات کی حمایت

سی اے اے ، این آر سی اور این پی آر کے خلاف مغربی اتر پردیش کے دیوبند میں خواتین کا احتجاجی دھرنا گزشتہ 22 دنوں سے جاری ہے ۔ مقامی خواتین ایکشن کمیٹی کی قیادت میں شروع ہوئے اس احتجاجی دھرنے کے ساتھ لوگوں کے جڑنے کا سلسلہ لگاتار جاری ہے ۔ دھرنے کو ختم کرانے کیلئے پولیس انتظامیہ کی کوششوں کے باوجود نہ صرف دیوبند بلکہ سہارنپور ، مظفر نگر اور میرٹھ سے دھرنے کی حمایت میں آوازیں اٹھ رہی ہیں ۔ ساتھ ہی جامعہ ملیہ اسلامیہ ، جے این یو اور دہلی یونیورسٹی کی طالبات کی بھی حمایت ان خواتین کو حاصل ہو رہی ہے اور یہ طالبات ان احتجاجی خواتین کی حوصلہ افزائی کیلئے وقتاً فوقتاً دیوبند پہنچ کر احتجاج میں شامل ہورہی ہیں ۔


دہلی کے شاہین باغ کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں خواتین کا احتجاجی دھرنا اب ایک تحریک کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے ۔ شروعات میں اس احتجاجی دھرنے کو مسلم خواتین کے احتجاجی مظاہروں سے منسوب کرکے دیکھنے کی کوشش کی گئی اور دھرنے کو ختم کرانے کیلئے مقامی پولیس انتظامیہ نے بھی اپنی کوششیں تیز کردیں ۔ تاہم تین ہفتے گزر جانے کے بعد بھی دیوبند کےعیدگاہ میدان میں خواتین کا دھرنا نہ صرف جاری ہے ، بلکہ مغربی یو پی کے دیگر شہروں سے بھی ان خواتین کو حمایت حاصل ہو رہی ۔


میرٹھ کے علما اور سماجی تنظیموں کے ذمہ داران کے مطابق دھرنے پر بیٹھی خواتین اپنے آئینی حق کے تحت احتجاج کر رہی ہیں اور ان کوں سماج کے ہر طبقے کی حمایت اور تعاون حاصل ہے ۔ آل انڈیا ملی کونسل کے ذمہ داران نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ وہ ان احتجاجی خواتین کا بھرپور تعاون کریں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں ۔


وہیں جمعیت علما ہند کے مقامی ذمہ داران کا کہنا ہے کہ احتجاجی دھرنے پر بیٹھی خواتین کو جمعیت جیسی ملی تنظیموں کی حمایت شروع سے ہی حاصل رہی ہے اور اگر ضرورت پڑی تو جمعیت کے لوگ گرفتاریاں دینے سے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ مسلم سماجی اور ملی تنظیموں کے ذمہ داران کا ماننا ہے کہ احتجاجی دھرنوں کے انعقاد کا سلسلہ مسلم خواتین کی قیادت میں ضرور شروع ہوا ہے ، لیکن اب یہ دائرہ محض مسلمانوں تک ہی محدود نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ شاہین باغ کے علاوہ ملک کے دیگر تقریباً سو مقامات پر شروع اس طرح کے احتجاجی مظاہرے ابھی تک جاری ہیں اور احتجاجی خواتین اپنے مطالبات کو پیش کرتے ہوئے دھرنے پر بھٹھے رہنے کا عزم ظاہر کر رہی ہیں ۔
First published: Feb 17, 2020 08:50 PM IST