ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

روشن باغ سی اے اے مخالف احتجاج : بلدیہ نے دھرنے کی جگہ فوری طور پر خالی کرنے کا جاری کیا نوٹس ، دی یہ بڑی وارننگ

ایڈیشنل سٹی کمشنر مشیر احمد نے واضح کیا ہے کہ منصور پارک کو خالی نہیں کیا گیا تو دھرنے پر بیٹھے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی ۔

  • Share this:
روشن باغ سی اے اے مخالف احتجاج : بلدیہ نے دھرنے کی جگہ فوری طور پر خالی کرنے کا جاری کیا نوٹس ، دی یہ بڑی وارننگ
روشن باغ احتجاج : بلدیہ نے دھرنے کی جگہ فوری طور پر خالی کرنے کا جاری کیا نوٹس

الہ آباد کے روشن باغ میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف جاری دھرنے کو ختم کرانے کے لئے مقامی انتظامیہ کا شکنجہ اور کستا جا رہا ہے ۔ پولیس انتظامیہ کی تمام کوششوں کے با وجود احتجاجی خواتین دھرنے پر ڈٹی ہوئی ہیں ۔ دھرنا ختم کرانے کی تازہ کوشش کے تحت اب الہ آباد بلدیہ نے بھی دھرنے کی جگہ فوری طور سے خالی کرنے کا نوٹس جا ری کردیا ہے ۔ بلدیہ کا کہنا ہے کہ اگر دھرنے کی جگہ فوری طور پر خالی نہیں کی گئی تو پولیس انتظامیہ کی مدد سے احتجاجیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی ۔


الہ آباد کے روشن باغ میں واقع منصور پارک میں گذشتہ 56 دنوں سے سی اے اے کے خلاف خواتین کا احتجاجی دھرنا جاری ہے ۔ پولیس انتظامیہ نے اب تک احتجاج میں شامل تقریباً دو سو افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے ۔ پولیس کی طرف سے ان کارروائیوں کے باوجود خواتین نے دھرنا ختم کرنے  سے صاف انکارکر دیا ہے ۔اسی درمیان دھرنے کے خلاف تازہ کارروائی کرتے ہوئے الہ آباد بلدیہ نے منصور پارک کو فوری طور سے خالی کرنے کا نوٹس جاری کر دیاہے ۔ بلدیہ کی طرف جاری نوٹس میں دھرنے کی جگہ کو فوری طور پر خالی کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔


ایڈیشنل سٹی کمشنر مشیر احمد نے واضح کیا ہے کہ منصور پارک کو خالی نہیں کیا گیا تو دھرنے پر بیٹھے افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی ۔ مشیر احمد کا کہنا ہے کہ منصور پارک بلدیہ کے زیر انتظام ہے ، لہٰذا اس کو احتجاجیوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دیا جائے گا۔ دوسری جانب منصور پارک کی خواتین نے بلدیہ کے نوٹس کو ماننے سے صاف انکار کردیا ہے ۔ دھرنے کے انتظام کاروں کا کہنا ہے کہ منصورک پارک وقف کی جائیداد ہے ، لہٰذا بلدیہ کو پارک خالی کرانے کا اختیار حاصل نہیں ہے ۔


احتجاجیوں کا کہنا ہے کہ ان کا دھرنا پر امن طریقے سے یوں ہی چلتا رہے گا ۔ روشن باغ کے منصور پارک میں بیٹھی خواتین مقامی انتظامیہ کی طرف سے جاری کئے گئے اب تک تمام نوٹس کو مسترد کر چکی ہیں ۔ ان کا کہنا ہے کہ شہریت ترمیمی قانون اور این پی آر کے خلاف ان کا احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا ، جب تک کہ اس قانون کو حکومت واپس نہیں لے لیتی ۔ روشن باغ کا دھرنا شروع ہوئے دو مہینہ ہو نے والا ہے ، لیکن دھرنے پر بیٹھی خواتین ابھی بھی پور ے جوش و خروش کے ساتھ دھرنا جاری رکھنے کیلئے پرعزم دکھائی دے رہی ہیں ۔
First published: Mar 07, 2020 10:48 PM IST