உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Uttar Pradesh Assembly election 2022 : کیا سیاسی منظرنامہ تبدیل کرسکتی ہیں چھوٹی جماعتیں؟

    Uttar Pradesh Assembly election 2022 : کیا سیاسی منظرنامہ تبدیل کرسکتی ہیں چھوٹی جماعتیں؟

    Uttar Pradesh Assembly election 2022 : کیا سیاسی منظرنامہ تبدیل کرسکتی ہیں چھوٹی جماعتیں؟

    Uttar Pradesh Assembly election 2022 : کیجریوال اور اویسی کے سیاسی نظریات سے بھلے ہی بہت بڑا طبقہ متاثر نہ ہو لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ سماج کا ایک مخصوص طبقہ کہیں نہ کہیں ان موضوعات پر غور وخوص کر رہاہے جن کو مذکورہ لیڈر آئینہ دکھا رہے ہیں ۔

    • Share this:
    لکھنو : اتر پردیش میں آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر اب اہم اور اقتدار کی دعویدار جماعتوں یعنی بی جے پی، سماج وادی ، کانگریس اور بی ایس پی کے ساتھ ساتھ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین اور اے اے پی نے بھی پوری طرح کمر کس لی ہے ۔ ایک طرف اویسی بی جے پی اور اس کے اہم قائدین پر اقلیتوں کے خلاف غیر دستوری رویے اپنانے اور متعصبانہ بیانات جاری کرنے کے لیے ، سخت تنقید کررہے ہیں دوسری طرف اے اے پی کی جانب سے عوامی بہبود پر مشتمل اسکیموں ، روزگار کے موقعوں ، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور اقلیتی تحفظ پر مبنی بیانات اور اعلانات کی جھڑی لگا دی گئی ہے ۔

    عام آدمی پارٹی کے یوپی انچارج اور راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ نے کہا ہے کہ یو پی میں اے اے پی کی حکومت بننے پر 300 یونٹ مفت بجلی، بقایا بجلی بل کی معافی، نوجوانوں کو روزگار کی گارنٹی، ہر سال 10 لاکھ نوکریاں اور ہر ماہ پانچ ہزار روپے بے روزگاری بھتہ دینے کا کام ہماری پارٹی کرے گی۔ اتر پردیش میں بڑھتی بد عنوانیوں اور بے لگام جرائم کے تناظر میں سنجے سنگھ نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ بی جے پی ایم ایل اے، مئیر، اُن کے لیڈران اور یوگی حکومت کے افسران مندر کی زمین و زر میں لوٹ اور بدعنوانی کر رہے ہیں ۔ پورے معاملے کی جانچ سپریم کورٹ کی نگرانی والی ایس آئی ٹی سے کرائی جائے ۔

    اس سے قبل سنجے سنگھ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس ملک کے کروڑوں لوگ مندر تعمیر کے لئے اپنا پیٹ کاٹ کر چندہ دے رہے ہیں اور بی جے پی لیڈران اور یوگی حکومت کے افسران کروڑوں روپے کے گھپلے اور جعلسازی میں مصروف ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ پریاگ راج کا رہنے والا رونگھئی ایودھیا آتا ہے اور ماجھا برہٹا گاؤں میں 21 بیگھہ زمین خریدتا ہے اور وہ اچانک اتنا امیر ہو جاتا ہے کہ خریدی گئی اپنی ساری زمین مہارشی رامائن ودیاپیٹھ ٹرسٹ کو عطیہ کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس رونگھئی اب بھی پردھان منتری آواس یوجنا میں ملے مکان میں رہتے ہیں۔

    راجیہ سبھا ممبر سنجے سنگھ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ جی نے کسی بھی معاملے کے لئے ایس آئی ٹی بنانے اور معاملہ کو ٹھنڈے بستے میں ڈالنے کا طریقہ سیکھ لیا ہے۔  اُنہوں نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے کہ پورے معاملے کی جانچ سپریم کورٹ کی نگرانی والی ایس آئی ٹی سے کرائی جائے۔  اس میں ملوث تمام ایم ایل اے، افسران  اور ملازمین کا استعفی فوری لیا جائے تاکہ منصفانہ جانچ  کویقینی بنایا جاسکے ۔

    گزشتہ دنوں سنجے سنگھ کی اکھلیش سے ہوئی ملاقاتوں کے سیاسی پس منظر کی وضاحت نہیں کی گئی ، لیکن قربت کا احساس سب کو ہوا اور اب اے اے پی بھی سماج وادی پارٹی کی طرح بڑی ریلیاں منظم کرنے کے لئے پیش رفت کر رہی ہے ۔

    سنجے سنگھ نے بتایا کہ 2 جنوری کو لکھنؤ میں ہونے والی ریلی کو تاریخی بنانے کے لئے سبھی اضلاع میں اے اے پی لیڈران اور کارکنان کی میٹنگ ہو رہی ہیں۔ سبھی لوگ ریلی کی کامیابی کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ لکھنؤ کی ریلی بڑی اور کامیاب ہوگی۔ سیاسی مبصرین مانتے ہیں کہ جہاں اویسی کے امیدوار ووٹ بنک کی تقسیم کو یقینی بناکر شعوری یا لاشعوری طور پر بی جے پی کو فائدہ پہنچائیں گے وہیں اے اے پی کے میدان میں اترنے سے بی جے پی کو زیادہ خسارہ اٹھانا پڑے گا ۔

    یہ قیاس اور اندازے کس حد تک صحیح ہیں یہ یقین سے نہیں کہا جاسکتا ، لیکن اتنا ضرور ہے کہ اویسی اور کیجریوال کی جماعتیں الیکشن کو بڑی حد تک مر متاثر کرکے اپنی اہمیت کا احساس تو کرا ہی سکتی ہیں۔

    قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: