உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UP Election: یوگی آدتیہ ناتھ کا اسد الدین اویسی پر نشانہ، کہا: شریعت نہیں آئین کے حساب سے چلے گا ہندوستان

    UP Election: یوگی آدتیہ ناتھ کا اسد الدین اویسی پر نشانہ، کہا: شریعت نہیں آئین کے حساب سے چلے گا ہندوستان

    UP Election: یوگی آدتیہ ناتھ کا اسد الدین اویسی پر نشانہ، کہا: شریعت نہیں آئین کے حساب سے چلے گا ہندوستان

    Uttar Pradesh Assembly Election 2022 : اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کی سرگرمیاں عروج پر ہیں ۔ پہلے مرحلہ کی پولنگ ہوچکی ہے اور دوسرے مرحلہ کی پولنگ پیر کو ہونے والی ہے ۔ اس درمیان یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک بڑا بیان دیا ہے ۔

    • Share this:
      لکھنو : اترپردیش میں اسمبلی انتخابات کی سرگرمیاں عروج پر ہیں ۔ پہلے مرحلہ کی پولنگ ہوچکی ہے اور دوسرے مرحلہ کی پولنگ پیر کو ہونے والی ہے ۔ اس درمیان یوپی کے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ نے ایک بڑا بیان دیا ہے ۔ انہوں نے ٹویٹر پر لکھا : غزوہ ہند کا خواب دیکھنے والے طالبانی سوچ کے مذہبی جنوبی یہ بات گانٹھ باندھ لیں کہ وہ رہیں یا نہ رہیں ، ہندوستان شریعت کے حساب سے نہیں ، آئین کے حساب سے چلے گا ۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے اس بیان کو اسد الدین اویسی کے اس بیان کے جواب کے طور پر دیکھا جارہا ہے ، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انشا اللہ ایک دن حجابی وزیر اعظم بنے گی ۔


      دراصل ہفتہ کو اویسی نے کہا تھا : اگر ہماری بیٹیاں فیصلہ کرتی ہیں کہ وہ حجاب پہنیں گی تو ابا امی پہلے کہیں گے کہ تو پہن دیکھتے ہیں تمہیں کون روکتا ہے ۔ اے آئی ایم آئی ایم لیڈر نے کہا تھا کہ حجاب پہنیں گے ، کالج جائیں گے ، ڈاکٹر بنیں گے ، کلیکٹر ، ایس ڈی ایم بنیں گے اور ایک دن یاد رکھنا شاید میں زندہ نہیں رہوں گا ، لیکن اس ملک کی ایک بیٹی حجاب پہن کر وزیر اعظم بنے گی ۔


      واضح رہے کہ اس سے قبل بھی اسد الدین اویسی حجاب کی حمایت میں اپنا ردعمل ظاہر کرچکے ہیں۔ انہوں نے پہلے کہا تھا کہ ہندوستان کا آئین اختیار دیتا ہے کہ آپ چادر اوڑھیں، نقاب پہنیں یا حجاب پہنیں۔ انہوں نے پٹا سوامی کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ پٹا سوامی کا فیصلہ آپ کو اس بات کی اجازت دیتا ہے۔ یہ ہم لوگوں کی پہچان ہے۔ انہوں نے کہا تھا، ’میں سلام کرتا ہوں اس لڑکی کو، جس نے ان لڑکوں کو جواب دیا تھا۔ اویسی نے یوپی میں ایک ریلی میں بھی کہا تھا کہ مسلم خواتین بغیر کسی خوف کے حجاب پہن سکتی ہے۔

      وہیں پولیس نے ہفتہ کو گجرات کے مختلف شہروں میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے کئی عہدیداران کو حراست میں لیا ہے۔ کرناٹک کے کچھ تعلیمی اداروں میں طالبات کو کلاسیز میں حجاب پہننے کی اجازت نہیں دیئے جانے کے خلاف گجرات کے مختلف شہروں میں احتجاج کو ناکام کرنے کے لئے پولیس نے یہ قدم اٹھایا۔

      افسران نے بتایا کہ سورت میں احتجاج کی خبر سوشل میڈیا پر نشر کئے جانے کے بعد بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا تھا، جبکہ احمد آباد میں حجاب کی حمایت میں دستخطی مہم شروع کئے جانے سے پہلے آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے کئی کارکنان کو حراست میں لے لیا گیا۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: