உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UP 4th Phase Voting:یوپی انتخابات کے چوتھے مرحلے میں 9 اضلاع کی 59 سیٹوں پر ووٹنگ کا ہوا آغاز، جانیے تفصیل

    UP Assembly Election 2022: یوپی انتخابات کے چوتھے مرحلے کے دوران لکھنؤ کے ساتھ رائے بریلی پر بھی خصوصی نظر رکھی جائے گی، کیونکہ اسے گاندھی خاندان کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی یہاں سے لوک سبھا کی رکن ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کی انتخابی حکمت عملی کو بھی چوتھے مرحلے میں جانچا جائے گا۔

    UP Assembly Election 2022: یوپی انتخابات کے چوتھے مرحلے کے دوران لکھنؤ کے ساتھ رائے بریلی پر بھی خصوصی نظر رکھی جائے گی، کیونکہ اسے گاندھی خاندان کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی یہاں سے لوک سبھا کی رکن ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کی انتخابی حکمت عملی کو بھی چوتھے مرحلے میں جانچا جائے گا۔

    UP Assembly Election 2022: یوپی انتخابات کے چوتھے مرحلے کے دوران لکھنؤ کے ساتھ رائے بریلی پر بھی خصوصی نظر رکھی جائے گی، کیونکہ اسے گاندھی خاندان کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی یہاں سے لوک سبھا کی رکن ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کی انتخابی حکمت عملی کو بھی چوتھے مرحلے میں جانچا جائے گا۔

    • Share this:
      لکھنو:اتر پردیش اسمبلی انتخابات 2022 کے لیے چوتھے مرحلے کی ووٹنگ آج یعنی 23 فروری (UP Assembly Election 2022) کو شروع ہوگئی ہے۔ چوتھے مرحلے (4th Phase Voting) میں 9 اضلاع کی 59 اسمبلی سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے جارہے ہیں۔ اس میں روہیل کھنڈ سے ترائی بیلٹ اور اودھ خطہ تک 624 امیدوار میدان میں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، پہلے تین مرحلوں میں یوپی اسمبلی کی 403 میں سے 172 سیٹوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے ہیں۔ جبکہ یوپی اسمبلی انتخابات کے چوتھے مرحلے میں 59 اسمبلی سیٹیں رائے بریلی، پیلی بھیت، لکھیم پور کھیری، سیتا پور، ہردوئی، لکھنؤ، اناؤ، فتح پور اور بندہ اضلاع سے ہیں۔


      چوتھے مرحلے کے لئے سیکورٹی کے سخت انتظامات
      اترپردیش اسمبلی انتخابات کے چوتھے مرحلے کے لیے سیکورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں۔ ووٹنگ کی تیاریوں کے تعلق سے اے ڈی جی ایل او پرشانت کمار نے کہا ہے کہ ووٹنگ سے پہلے تمام اسمبلی سیٹوں پر پرامن ووٹنگ کی پوری تیاری ہے۔ حساس بوتھوں پر خصوصی نگرانی کی جا رہی ہے۔ اے ڈی جی ایل او پرشانت کمار نے کہا کہ چوتھے مرحلے میں 59 اسمبلیوں میں سے 3 حساس ہیں۔ حساس اسمبلیوں میں حسین گنج، بندکی، فتح پور شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے 590 مجرے اور محلے غیر محفوظ ہیں جب کہ 3393 پولنگ مقامات کو تشویشناک قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خواتین کو ووٹ ڈالنے کی ترغیب دینے کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔ چوتھے مرحلے کے اسمبلی حلقوں میں 137 پنک بوتھ (خواتین کے بوتھ) بنائے گئے ہیں۔ پنک بوتھس پر 36 خواتین انسپکٹر، سب انسپکٹر اور 277 خواتین کانسٹیبل اور ہیڈ کانسٹیبل تعینات کی گئی ہیں۔


      EVM کی حفاظت میں 860 کمپنی پیراملٹری، 21 کمپنی پی اے سی تعینات
      پولنگ کے چوتھے مرحلے اور اس کے بعد بیلٹ باکس کی حفاظت کے لیے پولیس پوری طرح تیار ہے۔ پولنگ اسٹیشنوں، اسٹرانگ رومز اور ای وی ایم کی حفاظت کے لیے 860 کمپنی نیم فوجی دستے تعینات کیے گئے ہیں۔ یوپی پولیس کے 7022 انسپکٹر، سب انسپکٹر، 58132 کانسٹیبل، ہیڈ کانسٹیبل کو چوتھے مرحلے میں تعینات کیا گیا ہے۔ پولنگ کو پرامن بنانے کے لیے 21 کمپنی پی اے سی، 50490 ہوم گارڈز، 1850 پی آر ڈی جوان، 8486 چوکیدار بھی الیکشن ڈیوٹی پر مامور کیے گئے ہیں۔ پولیس اہلکاروں کو بھی کورونا ہدایات پر عمل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

      لکھنو کے ساتھ رائے بریلی پر رہے گی خاص نظر
      یوپی انتخابات کے چوتھے مرحلے کے دوران لکھنؤ کے ساتھ رائے بریلی پر بھی خصوصی نظر رکھی جائے گی، کیونکہ اسے گاندھی خاندان کا گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ کانگریس صدر سونیا گاندھی یہاں سے لوک سبھا کی رکن ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی کی انتخابی حکمت عملی کو بھی چوتھے مرحلے میں جانچا جائے گا۔ جب کہ سب کی نظریں اودھ خطہ کی سیٹوں پر لگی ہوئی ہیں، کیونکہ گزشتہ دو اسمبلی انتخابات میں یہاں جس پارٹی نے کامیابی حاصل کی تھی، اسی نے حکومت بنائی ہے۔ ساتھ ہی، چوتھے مرحلے میں، درج فہرست ذاتوں (ایس سی) سے تعلق رکھنے والے امیدواروں کے لیے 16 نشستیں محفوظ ہیں۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: