உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UP Assembly Elections 2022 : یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف الیکشن لڑنا چاہتے ہیں ڈاکٹر کفیل خان، کہا : کئی پارٹیوں سے ٹکٹ کیلئے چل رہی بات

    UP Assembly Elections 2022 : یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف الیکشن لڑنا چاہتے ہیں ڈاکٹر کفیل خان، کہا : کئی پارٹیوں سے ٹکٹ کیلئے چل رہی بات

    UP Assembly Elections 2022 : یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف الیکشن لڑنا چاہتے ہیں ڈاکٹر کفیل خان، کہا : کئی پارٹیوں سے ٹکٹ کیلئے چل رہی بات

    UP Assembly Polls 2022 : گورکھپور (Gorakhpur) کے بی آر ڈی میڈیکل کالج (BRD Medical College) میں مبینہ طور پر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کئی بچوں کی موت کے بعد سرخیوں میں آنے والے ڈاکٹر کفیل خان (Dr Kafeel Khan) ، وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ (CM Yogi Adityanath) کے خلاف گورکھپور صدر سیٹ (Gorakhpur Sadar Assembly Seat) سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔

    • Share this:
      گورکھپور : گورکھپور (Gorakhpur) کے بی آر ڈی میڈیکل کالج  (BRD Medical College)  میں مبینہ طور پر آکسیجن کی کمی کی وجہ سے کئی بچوں کی موت کے بعد سرخیوں میں آنے والے ڈاکٹر کفیل خان (Dr Kafeel Khan)  ، وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ (CM Yogi Adityanath) کے خلاف گورکھپور صدر سیٹ  (Gorakhpur Sadar Assembly Seat)  سے الیکشن لڑنا چاہتے ہیں۔ ڈاکٹر کفیل خان نے کہا کہ ان کی کئی پارٹیوں سے بات چیت چل رہی ہے ۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو وہ صدر سیٹ سے یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف الیکشن لڑیں گے۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ انہیں کس پارٹی سے ٹکٹ مل سکتا ہے ۔ غور طلب ہے کہ سی اے اے کے خلاف احتجاج کے دوران یوگی حکومت نے کفیل خان کے خلاف راسوکا کی کارروائی کی تھی ۔ بعد میں ہائی کورٹ سے راحت ملنے کے بعد کفیل جیل سے باہر آئے تھے ۔

      منگل کو نیوز ایجنسی پی ٹی آئی بھاشا سے بات چیت کرتے ہوئے ڈاکٹر کفیل خان نے کہا کہ میں گورکھپور سے وزیر اعلی یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف الیکشن لڑ سکتا ہوں ۔ کئی پارٹیوں سے میری بات چیت چل رہی ہے ۔ اگر سب کچھ ٹھیک رہا اور کوئی پارٹی مجھے ٹکٹ دیتی ہے تو میں تیار ہوں۔ اس سوال پر کہ کون سی پارٹی ان سے رابطے میں ہے، خان نے کہا کہ وہ ابھی پارٹی کا نام ظاہر نہیں کریں گے ۔ گورکھپور میں اسمبلی انتخابات کے چھٹے مرحلے میں 3 مارچ کو ووٹنگ ہوگی ۔

      ڈاکٹر کفیل خان نے دعویٰ کیا کہ مجھے ہراساں کرنے کا سلسلہ ابھی تک رکا نہیں  ہے ۔ گزشتہ 17 دسمبر کو میری کتاب کی ریلیز کے بعد پولیس 20 دسمبر اور پھر 28 دسمبر اور اس مہینے بھی میرے گھر پہنچی اور دعویٰ کیا کہ میں گورکھپور ضلع کے راج گھاٹ تھانے کا ہسٹری شیٹر ہوں اور اسمبلی انتخابات کی وجہ سے ایسے لوگوں کی تصدیق کی جارہی ہے ۔

      خان نے دعویٰ کیا کہ گورکھپور میڈیکل کالج میں آکسیجن کی سپلائی میں خلل پڑنے کے بعد انہوں نے ذاتی کوششیں کرکے آکسیجن سلنڈر جمع کئے تھے ، جس سے کئی بچوں کی جانیں بچ گئی تھیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگلے دن اخبارات میں انہیں ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا تھا ، لیکن اس کے باوجود انہیں نشانہ بنایا گیا جبکہ دیگر ملزمان کو چھوڑ دیا گیا۔

      انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے جان بوجھ کر ان کے کنبہ کو ہراساں کیا اور اشتعال انگیز تقریر کرنے کے الزام میں انہیں طویل عرصے تک جیل میں رکھا۔ غور طلب ہے کہ نومبر 2021 کو انہیں نوکری سے برخاست کردیا گیا تھا ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: