اجودھیا : دیپ اتسو کیلئے وشو ہندو پریشد کو نہیں ملی اجازت ، ضلع انتظامیہ نے دی یہ دلیل

کمشنر سے متنازع جگہ پر دیپ جلانے کی اجازت نہ ملنے سے ناراض وشو ہندو پریشد کے ترجمان شرد شرما نے کہا کہ سنتوں سے بات چیت کے بعد آگے کے حکمت عملی پر غور کیا جائے گا ۔

Oct 14, 2019 05:45 PM IST | Updated on: Oct 14, 2019 11:48 PM IST
اجودھیا : دیپ اتسو کیلئے وشو ہندو پریشد کو نہیں ملی اجازت ، ضلع انتظامیہ نے دی یہ دلیل

اجودھیا : دیپاتسو کیلئے وشو ہندو پریشد کو نہیں ملی اجازت ، ضلع انتظامیہ نے دی یہ دلیل

وشو ہندو پریشد کو اجودھیا کے متنازع مقام پر دیپ اتسو کی اجازت نہیں دی گئی ہے ۔ ریسیور کمشنر منوج مشرا نے اس معاملہ میں سپریم کورٹ کا حکم واضح کیا ہے اور کہا ہے کہ یہاں پر روایتی پروگرام کے علاہ کسی دیگر اتسو کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ۔ حالانکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر وی ایچ پی چاہے تو سپریم کورٹ جاسکتی ہے ۔ اس سے پہلے وی ایچ پی کے دیپ اتسو پروگرام کو لے کر مسلم فریق نے بھی سخت اعتراض کیا تھا ۔

دراصل وی ایچ پی کے ایک وفد نے پیر کو ریسیور کمشنر سے متنازع احاطہ میں دیپ اتسو کی اجازت مانگنے کیلئے ملاقات کی تھی ۔ کمشنر سے متنازع جگہ پر دیپ جلانے کی اجازت نہ ملنے سے ناراض وشو ہندو پریشد کے ترجمان شرد شرما نے کہا کہ سنتوں سے بات چیت کے بعد آگے کے حکمت عملی پر غور کیا جائے گا ۔ وفد میں منی رام داس چھاونی کے مہنت کمل نین داس ، وی ایچ پی کے ترجمان شرد شرما سمیت کئی دیگر سنت شامل تھے ۔

Loading...

وہیں دوسری طرف دیپ اتسو کے مطالبہ پر مسلم فریق نے بھی سخت رخ اختیار کیا تھا ۔ مسلم فریق حاجی محبوب نے کہا کہ متنازع احاطہ میں اگر وشو ہندو پریشد کو دیپ جلانے کی اجازت ملتی ہے ، تو مسلم سماج بھی متنازع احاطہ میں نماز پڑھنے کی اجازت مانگے گا ۔

انتظامیہ پوری طرح الرٹ

بتایا جارہا ہے اجودھیا میں دفعہ 144 نافذ کرنے کے پیچھے اجودھیا تنازع کا ممکنہ فیصلہ اور وی ایچ پی کے دیپ اتسو منانے کا مطالبہ ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ مسلم فریق نے بھی سخت اعتراض کیا ہے ۔ وہیں اجودھیا پر آنے والے فیصلہ کو لے کر بھی ضلع انتظامیہ پوری طرح سے الرٹ ہے ۔

Loading...