اترپردیش: تعلیم اور اتحاد کے ذریعے ملے گی پسماندہ لوگوں کو عزت : ضمیر الدین شاہ

اترپردیش: تعلیم اور اتحاد کے ذریعے ملے گی پسماندہ لوگوں کو عزت : ضمیر الدین شاہ

اترپردیش: تعلیم اور اتحاد کے ذریعے ملے گی پسماندہ لوگوں کو عزت : ضمیر الدین شاہ

Uttar Pradesh News: انٹیگرل یونیورسٹی میں سماج کے پسماندہ لوگوں کی تعلیم و ترقی کے پیشِ نظر نیشنل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ، جس میں علمی ادبی ، سیاسی و صحافتی دنیا کی اہم شخصیات نے کی شرکت کی ۔

  • News18 Urdu
  • Last Updated :
  • Uttar Pradesh | Lucknow
  • Share this:
لکھنو : انٹیگرل یونیورسٹی میں سماج کے پسماندہ لوگوں کی تعلیم و ترقی کے پیشِ نظر نیشنل کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ، جس میں علمی ادبی ، سیاسی و صحافتی دنیا کی اہم شخصیات نے کی شرکت کی ۔ انٹیگرل یونیورسٹی لکھنئو اور معروف تنظیم اتحاد برائے تعلیم ومعاشی ترقی، کے باہمی اشتراک  سے منعقد کی گئی اس دوروزہ اہم کانفرنس  کے افتتاحی اجلاس میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلرضمیر الدین شاہ،انٹیگرل یونیورسٹی کے بانی وچانسلر پروفیسر سید وسیم اختر، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلرنجیب جنگ، سابق الیکشن کمشنر ڈاکٹر ایس وائی قریشی، معروف صحافی شاہد صدیقی، ڈاکٹر پی اے انعامدار، پروفیسر امیتابھ کنڈو، انٹیگرل یونیورسٹی کے پروچانسلر ڈاکٹر سید ندیم اختر اور وائس چانسلر پروفیسرجاوید مسرت سمیت اہم لوگوں نے خطاب کیا ۔

تلاوت کلام پاک سے شروع ہوئی اس کانفرنس میں جن مسائل وموضوعات پراظہار خیال کیا گیا ، ان کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ اس موقع پر افتتاحی خطبہ پیش کرتے ہوئے ضمیر الدین شاہ نے کہا کہ موجودہ وقت میں اپنی فلاح وبہبود کی کوششیں خود کرنا ہوں گی ۔ اب عزت بھیک میں نہیں ملے گی بلکہ خود کمانی ہوگی اور اس کیلئے تعلیم واتحاد کے راستے اختیار کرنے پڑیں گے ۔ انہوں نے اپنے خطبے میں پروفیسر سید وسیم اختر کی تعلیمی خدمات کی بھی ستائش کی ۔

پروفیسر سید وسیم اختر نے اپنی بصیرت افروز تقریر میں کئی عمدہ مثالیں پیش کرتے ہوئے تعلیم کی اہمیت افادیت اور مقصدیت کو آشکار کیا ۔معروف صحافی شاہد صدیقی نے کہا کہ موجودہ وقت میں کسی ایک سمت میں کام کرنے کی نہیں بلکہ مختلف محاذوں پر کام کرکے ہی پسماندہ لوگوں کی تنزلی کو دور کیا جا سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمیں انٹیگرل یونیورسٹی جیسے اداروں اور پروفیسر وسیم اختر جیسی شخصیات کی ضرورت ہے ۔ اب تعلیم سے نہیں بلکہ معیاری تعلیم سے مسائل حل ہوں گے ۔

ڈاکٹر ایس وائی قریشی نے کہا کہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ جس قوم میں حصول تعلیم پر سب سے زیادہ زور دیاگیا ہے ، وہی آج تعلیمی اعتبار سے سب سے زیادہ پچھڑی ہوئی ہے ۔ ڈاکٹر نجیب جنگ نے اس کانفرنس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کرتے ہوئے اپنے خیالات پیش کئے اور ایسے اہم نکات کو واضح کیا جن پر کام کرنے کی موجودہ عہد میں شدید ضرورت ہے ۔ مشترکہ طور پر مقررین نے واضح کی اکہ اگر اقلیتی طبقے کے ذمہدار اور صاحبِ ثروت لوگوں نے معیار ی تعلیم کے حصول اور معاشی ترقی ، فلاح و بہبود کے راستے خود ہموار نہیں کیے تو آنے والے وقت میں مسائل مزید پیچیدہ اور حالات دشوار ترین ہوجائیں گے ۔

یہ بھی پڑھئے: خاتون پہلوانوں کے الزامات پر تشکیل نگرانی کمیٹی کی جانچ بے نتیجہ، پولیس کو سونپی رپورٹ


یہ بھی پڑھئے: آنند موہن کی رہائی کا معاملہ پہنچا سپریم کورٹ، جی کرشنیا کی بیوی نے داخل کی عرضی



اس موقع پر آئی ڈو کا ایپ بھی لانچ کیا گیا اور پروفیسر سید وسیم اختر نے مہمانوں کو یادگاری نشانات بھی پیش کئے ۔ نیشنل کانفرنس کا پہلا سیشن انٹیگرل یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر جاوید مسرت کے روشن افکار اور حرف تشکر کے ساتھ اختتام پذیر ہو ا۔ واضح رہے کہ یہ کانفرنس کل بھی جاری رہے گی، جس میں دنیائے علم وادب کے اہم دانشور اور مفکر اظہار خیال کریں گے ۔
Published by:Imtiyaz Saqibe
First published: