ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

یو پی مدرسہ بورڈ کے امتحانات میں بڑھا ڈراپ آوٹ ، 50 ہزار طلبہ نے چھوڑا امتحان ، یہ ہے بڑی وجہ

یوپی مدرسہ بورڈ کے سالانہ امتحانات 25 فروری سے شروع ہو رہے ہیں ۔ منشی ، مولوی ، عالم اور فاضل کیلئے ہونے والے یہ امتحانات آئندہ 5 مارچ تک جاری رہیں گے ۔

  • Share this:
یو پی مدرسہ بورڈ کے امتحانات میں بڑھا ڈراپ آوٹ ، 50 ہزار طلبہ نے چھوڑا امتحان ، یہ ہے بڑی وجہ
یو پی مدرسہ بورڈ کے امتحانات میں بڑھا ڈراپ آوٹ ، 50 ہزار طلبہ نے چھوڑا امتحان ، یہ ہے وجہ

الہ آباد : یو پی مدرسہ بورڈ کے سالانہ امتحانات میں اب تک کا سب سے بڑا ڈراپ آوٹ سامنے آیا ہے ۔ اس مرتبہ مدرسہ بورڈ کے امتحانات میں تقریبا 50 ہزار بچوں کی کمی واقع ہوئی ہے ۔ آٹھ برس پہلے مدرسہ بورڈ سے امتحانات دینے والے بچوں کی تعداد پانچ لاکھ سے تجاوز کر گئی تھی ۔ لیکن اس مرتبہ یہ تعداد گر کر صرف ایک لاکھ 80  ہزاررہ گئی ہے ۔


یوپی مدرسہ بورڈ کے سالانہ امتحانات 25 فروری سے شروع ہو رہے ہیں ۔ منشی ، مولوی ، عالم اور فاضل کیلئے ہونے والے یہ امتحانات آئندہ 5 مارچ تک جاری رہیں گے ۔ لیکن گزشتہ کئی برسوں سے یو پی بورڈ کے امتحانات میں بڑے پیمانے ڈراپ آوٹ سامنے آرہا ہے ۔ گزشتہ سال امتحان دینے والے بچوں کی تعداد 2 لاکھ تیس ہزار تھی ، وہیں اس مرتبہ یہ تعداد کم ہو کر صرف ایک لاکھ 80  ہزار رہ گئی ہے ۔


دینی مدارس کے ذمہ داران اس صورتحاصل سے سخت تشویش میں مبتلا ہیں ۔ دینی مدارس کی نمائندہ تنظیم ٹیچرس ایسوسی ایشن مدارس عربیہ کے جنرل سکریٹری اعظم حامد کا کہنا ہے کہ مدرسہ بورڈ کے اسناد کی اہمیت ختم ہونے اور روزگار میں اسناد کے کام نہ آنے کی وجہ سے ڈراپ آوٹ میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ گرچہ مدرسہ بورڈ کے اسناد ہائی اسکول اور انٹرمیڈیٹ کے مساوی تسلیم کئے جاتے ہیں ۔ تاہم مدرسہ بورڈ سے امتحان دینے والوں کی تعداد میں ہر سال گراوٹ درج کی جا رہی ہے ۔ مدرسہ بورڈ کے امتحانات میں ڈراپ آوٹ کا سلسلہ گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہے ۔ اس مربہ مدرسہ بورڈ کے امتحانات میں سب سے کم بچے شریک ہو رہے ہیں ۔لیکن


ادھر دینی مدارس کا کہنا ہے کہ یوپی مدرسہ بورڈ کا غیر معیاری نظام تعلیم اس ڈراپ آوٹ کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔ مدارس کا کہنا ہے کہ مدرسہ بورڈ میں امتحان دینے والوں میں ایسے بچوں کی کمی نہیں ، جوعربی حروف تک سے واقف نہیں ہیں ۔ واضح رہے کہ یوپی مدرسہ بورڈ کے امتحانات دینے والوں میں ایک بڑی تعداد پرائیویٹ امتحان دینے والے طلبہ و طالبات پر مشتمل ہوتی ہے ۔ ریاست کے امداد یافتہ دینی مدارس کا الزام ہے کہ پرائیوٹ امتحان دینے والے بچوں کی وجہ سے تعلیم کا معیار کافی گرگیا ہے ۔ چوںکہ پرائیوٹ امتحان دینے والے بچوں کو کسی دینی مدرسہ کا باقاعدہ طالب علم ہونا ضروری نہیں ، ایسے میں یہ بچے صرف ذاتی طور پر امتحان کی تیاری کرتے ہیں اور اس میں وہ کامیاب بھی ہوجاتے ہیں۔
First published: Feb 24, 2020 09:32 PM IST