உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کاس گنج : لاک اپ میں الطاف کی موت معاملہ میں قتل کا کیس درج، مگر نامعلوم پولیس اہلکاروں کے خلاف

    کاس گنج : لاک اپ میں الطاف کی موت معاملہ میں قتل کا کیس درج، مگر نامعلوم پولیس اہلکاروں کے خلاف

    کاس گنج : لاک اپ میں الطاف کی موت معاملہ میں قتل کا کیس درج، مگر نامعلوم پولیس اہلکاروں کے خلاف

    Case Registered Against Unknown Policemen : الطاف کے والد کی جانب سے پولیس کے پاس گیارہ نومبر کو بھی ایک تحریر ڈاک کے ذریعہ سے بھیجی گئی تھی ۔ ڈاک سے بھیجی گئی تحریر کی بنیاد پر تیرہ نومبر کو نامعلوم پولیس اہلکاروں کے خلاف دفعہ 302 کے تحت ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے ۔

    • Share this:
      کاس گنج : کوتوالی کے لاک اپ میں ہوئی الطاف کی موت کے معاملہ میں ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے ۔ واقعہ کے چار دن بعد ہفتہ دوپہر سوا ایک بجے بھیم آرمی کے لیڈر چندر شیکھر راون کاس گنج میں واقع الطاف کے کنبہ سے ملنے پہنچے ۔ تقریبا ایک گھنٹہ متاثرہ کنبہ کے ساتھ گزارنے کے بعد وہ دوپہر تین بجے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کروانے کیلئے الطاف کے والد کے ساتھ کاس گنج ایس پی روہن پی بوترے کے پاس پہنچے ۔

      اس سے پہلے الطاف کے والد کی جانب سے پولیس کے پاس گیارہ نومبر کو بھی ایک تحریر ڈاک کے ذریعہ سے بھیجی گئی تھی ۔ ڈاک سے بھیجی گئی تحریر کی بنیاد پر تیرہ نومبر کو نامعلوم پولیس اہلکاروں کے خلاف دفعہ 302 کے تحت ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے ۔ وہیں 13 نومبر کو دی گئی نامزد تحریر کو بھی جانچ میں شامل کرنے کی بات پولیس اہلکاروں نے کہی ہے ۔

      ایس پی کاس گنج کے پاس پہنچ کر الطاف کے والد نے 13 نومبر کو جو تحریر سونپی ہے ، اس میں انسپکٹر وریندر سنگھ اندولیا ، چندریش گوتم ، وکاس کمار، گھنیندر سنگھ ، سوربھ سولنکی سمیت نامعلوم پر سازش کے تحت قتل کا الزام لگایا گیا ہے ۔ بتادیں کہ گزشتہ دنوں نو نومبر کو کاس گنج کے پولیس لاک اپ میں 22 سالہ الطاف کی مشتبہ حالت میں موت ہوگئی تھی ۔ پولیس نے اس کو خودکشی کا معاملہ بتاکر متعلقہ قصوروار پولیس اہلکاروں کو معطل کردیا تھا ۔

      کاس گنج ایس پی دفتر کے مطابق معاملہ کی جانچ کیلئے ایک خصوصی پولیس ٹیم کی تشکیل دی گئی ہے ۔ حالانکہ قومی انسانی حقوق کمیشن نے بھی اس معاملہ میں درج آن لائن شکایت کی بنیاد پر جانچ شروع کردی ہے ۔ اس معاملہ میں ملک کے مختلف حصوں میں عدالتوں میں بھی شکایتیں درج کرائی جانے کی جانکاری سامنے آرہی ہے ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: