உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Lucknow News : لڑکیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے مشترکہ تحریکات چلانی ہوں گی ، تاریخی امام باڑے میں منعقدہ تعلیمی پروگرام میں اظہار خیال

    لڑکیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے مشترکہ تحریکات چلانی ہوں گی ، تاریخی امام باڑے میں منعقدہ تعلیمی پروگرام میں اظہار خیال

    لڑکیوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنے کیلئے مشترکہ تحریکات چلانی ہوں گی ، تاریخی امام باڑے میں منعقدہ تعلیمی پروگرام میں اظہار خیال

    Lucknow News : لڑکیوں کو تعلیمی زیور سے آراستہ کرنے ، انہیں خود کفیل بنانے اور ایک بہتر نظامِ زندگی عطا کرنے کے لئے ملت اسلامیہ کو حکومتوں پر انحصار کئے بغیر مشترکہ طور پر تحریکات چلانی ہوں گی اور ذاتی و انفرادی کوششوں سے ماحول کو سازگار بناناہوگا ۔

    • Share this:
    لکھنئو: لڑکیوں کو تعلیمی زیور سے آراستہ کرنے ، انہیں خود کفیل بنانے اور ایک بہتر نظامِ زندگی عطا کرنے کے لئے ملت اسلامیہ کو حکومتوں پر انحصار کئے بغیر مشترکہ طور پر تحریکات چلانی ہوں گی اور ذاتی و انفرادی کوششوں سے ماحول کو سازگار بناناہوگا ۔ ان خیالات کا اظہار لکھنئو کے تاریخی امام باڑے میں منعقدہ تعلیمی پروگرام میں کیا گیا۔ امامیہ ایجو کیشنل ٹرسٹ کی جانب سے منعقدہ کانفرس میں پرگتی شیل سماج وادی پارٹی کے ترجمان سمیت کئی سماجی فلاحی اور تعلیمی تنظیموں سے وابستہ لوگوں نے شرکت کی ۔ اس موقع پر امامیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ کی جانب سے ان لڑکیوں کی حوصلہ افزائی بھی کی گئی جنہوں نے اپنے اپنے درجات میں نمایاں کارکردگی پیش کی۔

    اس موقع پر ٹرسٹ کے بانی محمد علی حسین قمی نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں سے غریب بچیوں کی تعلیمی کفالت کے لئے ٹرسٹ شب و روز خدمات انجام دے رہاہے لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت اور حکومت کی جانب سے اس باب میں کبھی کوئی تعاون نہیں ملا ہے ۔ مولانا کے مطابق الیکشن کے وقت لوگوں کو اس طبقے کی زبوں حالی اور تعلیمی بد حالی کا خیال آتا ہے ، بڑے بڑے دعوے کئے جاتے ہیں ، وعدے کئے جاتے ہیں اور پھر ووٹ لینے کے بعد سب کچھ فراموش کردیا جاتا ہے ۔ لہٰذا بیس سال سے کئے جارہے مسلسل وعدوں کی حقیقت یہی ہے کہ اقلیتوں کے کسی بھی ادارے اور اسکول کی فلاح کے لیے نہ سیاسی لوگ سنجیدہ ہیں اور نہ سیاسی جماعتیں ۔ ابھی تک غریب بچیوں کی تعلیم کا سلسلہ کسی طرح عوامی چندے سے  چل رہاہے لیکن کورونا کے سبب پیدا ہوئے معاشی بحران نے اب یہ راستے بھی دشوار کردئے ہیں لہٰذا اس تعلیمی کانفرنس میں یہ آواز بھی بلند کی گئی کہ اب اسی جماعت اور امیدوار کو ووٹ دیا جائے گا جو اقلیتی طبقوں کی غریب بچیوں کے لیے تعلیم کے راستے ہموار کرے گی۔

    اس موقع پر مولانا شمس الدین نے کہا کہ  اس مسابقتی دور میں حصول تعلیم ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ معیاری تعلیم کی ضرورت ہے اور لڑکیوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لئے ایسے ذرائع اور اسباب ناگزیر ہیں، جن سے مالی معاونت کو یقینی بنایا جاسکے ۔ الیکشن کے ضابطہ اخلاق کے نفاذ اور کورونا کی احتیاطی تدابیر کے پیش نظر اس بار امامیہ ایجوکیشنل ٹرسٹ کی جانب سے تعلیمی کانفرنس کا انعقاد چھوٹے پیمانے پر کیا گیا ۔

    مولانا علی حسین قمی نے کہا کہ  ہم تعلیمی مشن کو جاری رکھنا چاہتے ہیں ۔ وسائل نہ ہونے کے سبب پریشانیوں کا سامنا ضرور ہے لیکن جب تک سانس چل رہی ہے اس مشن کو جاری رکھا جائے گا ۔ حکومت سے نہ کل کوئی امید تھی اور نہ مستقبل میں کوئی امید ہے ۔ تاہم اپنے جمہوری و دستوری حقوق کی بازیابی کے لئے آواز احتجاج بھی بلند کی جاتی رہے گی ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: