உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    UP Elections 2022 : ایس پی سے جھٹکا لگنے کے بعد اویسی کو ملے نئے ساتھی ، جانئے کس کے ساتھ ہوا اتحاد

    UP Elections 2022 : ایس پی سے جھٹکا لگنے کے بعد اویسی کو ملے نئے ساتھی ، جانئے کس کے ساتھ ہوا اتحاد

    UP Elections 2022 : ایس پی سے جھٹکا لگنے کے بعد اویسی کو ملے نئے ساتھی ، جانئے کس کے ساتھ ہوا اتحاد

    UP Election 2022: اے آئی ایم آئی ایم نے آج اترپردیش میں بابو سنگھ کشواہا اور بھارت مکتی مورچہ کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا۔ اس اتحاد کو 'بھاگیداری پریورتن مورچہ' کا نام دیا گیا ہے۔ اویسی اور کشواہا کے علاوہ اس میں بھارت مکتی مورچہ کے وامن میشرام بھی شامل ہیں۔

    • Share this:
      لکھنؤ : اتر پردیش اسمبلی انتخابات (UP Election 2022)  کے لئے حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی (Asaduddin Owaisi) کی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کو آخر کار کچھ اتحادی مل گئے ہیں۔ اے آئی ایم آئی ایم نے آج اترپردیش میں بابو سنگھ کشواہا اور بھارت مکتی مورچہ کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا۔ اس اتحاد کو 'بھاگیداری پریورتن مورچہ' کا نام دیا گیا ہے۔ اویسی اور کشواہا کے علاوہ اس میں بھارت مکتی مورچہ کے وامن میشرام بھی شامل ہیں۔

      اس کے ساتھ اسد الدین اویسی نے کہا کہ اگر ہمارا اتحاد اقتدار میں آتا ہے تو 2 وزیر اعلیٰ ہوں گے، ایک او بی سی سے اور دوسرا دلت برادری سے۔ نیز تین نائب وزرائے اعلیٰ ہوں گے، جن میں مسلم بھی شامل ہوگا ۔ بتا دیں کہ اسد الدین اویسی کی اے آئی ایم آئی ایم پارٹی نے اب تک 26 امیدواروں کا اعلان کیا ہے۔ اس کے علاوہ بابو سنگھ کشواہا بھی کئی امیدواروں کا اعلان کرچکے ہیں ۔

      وہیں یوپی کے سابق کابینہ وزیر اور جن ادھیکار پارٹی کے سربراہ بابو سنگھ کشواہا نے کہا کہ ابھی کئی اور پارٹیاں ہمارے ساتھ آنا چاہتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کہا کہ اس اتحاد کے آنے کے بعد اب لڑائی ایس پی اور بی جے پی کے درمیان نہیں رہ جائے گی ، بلکہ اب لڑائی بی جے پی اور ہمارے مورچہ کے درمیان ہوگی۔

      قابل ذکر ہے کہ اسد الدین اویسی کی پارٹی نے اتر پردیش میں 100 اسمبلی سیٹوں پر الیکشن لڑنے کا اعلان کر رکھا ہے ۔  اویسی مسلسل سماج وادی پارٹی کے ساتھ رابطے میں تھے اور سماج وادی پارٹی کے ساتھ اتحاد کرنا چاہتے تھے، لیکن ایس پی سپریمو اکھلیش یادو نے اویسی کی پارٹی پر بھروسہ نہیں کیا ۔

      اس سے پہلے اوم پرکاش راج بھر نے اسد الدین اویسی کے ساتھ مل کر بھاگیداری سنکلپ مورچہ کا اعلان کیا تھا ۔ تاہم یہ مورچہ بھی زیادہ دنوں نہیں چل سکا اور راج بھر اکھلیش یادو کی سائیکل پر سوار ہو گئے ۔ اس کے بعد اویسی کو امید تھی کہ راج بھر انہیں اپنے ساتھ لیں گے اور ایس پی کی رضامندی سے کچھ سیٹوں پر الیکشن لڑیں گے ، لیکن اکھلیش نے اویسی کی پارٹی کو گلے لگانے سے پرہیز کیا ۔

      بتادیں کہ اُترپردیش کی 403 اسمبلی سیٹوں کے لئے سات مرحلوں میں ووٹنگ 10 فروری سے شروع ہوگی۔ اُترپردیش میں دیگر مرحلوں میں رائے دہی 14,20,23,27فروری ، 3 اور 7 مارچ کو ہوگی۔ وہیں یو پی الیکشن کے نتائج 10 مارچ کو آئیں گے۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: