ہوم » نیوز » وسطی ہندوستان

اترپردیش کے گوتم راج بھر کیلئے مسیحا بن کر سامنے آئے مدھیہ پردیش کے سید عابد حسین ، کیا یہ کام

گوتم کہتے ہیں کہ وہ ماؤنٹیننگ اور ہائیکنگ کا شوق رکھتے ہیں ۔ اب وطن واپسی کے بعد وہ اپنے خواب کی تکمیل کے لئے یہیں رہ کر محنت کریں گے تاکہ ہمالیہ کی چوٹی کو سر کرسکیں ۔

  • Share this:
اترپردیش کے گوتم راج بھر کیلئے مسیحا بن کر سامنے آئے مدھیہ پردیش کے سید عابد حسین ، کیا یہ کام
اترپردیش کے گوتم راج بھر کیلئے مسیحا بن کر سامنے آئے مدھیہ پردیش کے سید عابد حسین

انسان اپنے ادھورے خوا ب کوپورا کرنے کے لئے کیا کیا نہیں کرتا ہے۔ اتر پردیش امبیڈکر نگر کے گوتم راج بھر نے اپنے ادھورے خواب کو پورا کرنے کے لئے سعودی عرب کا سفر کیا تھا ، لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ خواب پورا کرنے کی حسرت ان کے پیروں میں آہنی زنجیر ڈال دے گی ۔ گوتم نے سوشیالوجی کے ساتھ ماؤنٹینگ اینڈ ہائی کنگ میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی ہے اور اپنے عز م و حوصلے سے انہوں نے بہت سے پتھریلے پہاڑوں کی چوٹیوں کو سر بھی کیا ہے۔ گوتم کی خواہش ہمالیہ پہاڑ کی چوٹی سر کرنے کی تھی ، لیکن اس کیلئے انہیں پچیس لاکھ روپے کی ضرورت تھی ۔ انہوں نے دوستوں سے کچھ چندہ کیا ، لیکن جب ان کا کام پورا نہیں ہوا تو انہوں نے سعودی میں ملازمت کے لئے ایجنٹ کے توسط سے سفر کیا ۔


آنکھوں میں سنہرے مستقبل کا خواب لے کر سعودی کا سفر کرنے والے گوتم کو یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ جس ویزے پر سفر کر رہے ہیں، وہ وہ نہیں ہے جس کا ایجنٹ نے اس سے وعدہ کیا ہے۔ جب گوتم سعودی کے جبیل سٹی کے پاس پہنچے تو وہاں ان کا خواب چکنا چور ہو گیا ۔ دو دو ایم اے کرنے والے گوتم سے مزدوری کا کام لیا جانے لگا ۔ انہوں نے کمپنی میں کہیں جگہ پر احتجاج بھی کیا ، لیکن گوتم کی بات سننے کی بجائے انہیں دھمکیاں دی جانے لگیں ۔ گوتم راج بھرجب تمام کوششوں سے مایوس ہوگئے ، تو انہوں نے دوستوں کے مشورے سے اپنے مسائل کو لیکر ٹوئیٹ کیا۔ اسی ٹویٹ نے ان کے لئے امید کی راہ نکالی اور بھوپال کے ممتاز سماجی کارکن سید عابد حسین ان کے لئے مسیحا بن کر سامنے آئے ۔


سید عابد حسین نے گوتم راج بھر کے مسائل کو لیکر وزارت خارجہ کے ساتھ سعودی عرب میں ہندستانی سفارتخانہ سے بھی رابطہ کیا ۔ ان کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ گوتم راج بھر کی وطن واپسی ہو سکی ۔ گوتم سعودی عرب سے دہلی پہنچے اور اپنے گھر امبیڈکر نگر جانے کی بجائے سیدھا بھوپال آئے ۔ تاکہ اپنے محسن کا شکریہ ادا کرسکیں ۔ اپنے مسائل کو لیکر گوتم کچھ اس انداز میں اپنے خیالات کااظہار کرتے ہیں ۔




میں ایک سنہرے خواب کی تکمیل کے لئے سعودی گیا تھا ۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ ایجنٹ میرے ساتھ اس طرح کا دھوکہ کرے گا ۔ وہاں پر روزانہ بارہ سے چودہ گھنٹے کام کرنے کے ساتھ بھر پیٹ کھانا بھی نہیں دیا جاتا تھا ۔ جب اپنے حق کے لئے آواز اٹھائی تو چار دن تک کھانا نہیں دیا گیا۔ سوشل میڈیا پر اپنے مسائل کو لیکر ایک ٹویٹ کیا ، جس کے بعد بھوپال کے سید عابد حسین ایک مسیحا بن کر سامنے آئے اور ان کی کوششوں سے ہی میں وطن واپس آسکا ۔ اگر یہ نہیں ہوتے تو میں زندگی کی تمام آس چھوڑ چکا تھا۔ عابد صاحب کا شکریہ ادا کرنے کے لئے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں ۔ میری طرح اور بھی ہندوستان وہاں ہیں ، جن کے ساتھ ایجنٹ نے دھوکہ کیا ہے اور انہیں واپس لانے کی ضرورت ہے ۔

بھوپال کے سید عابد حسین گزشتہ کئی سالوں سے اس میدان میں کام کر رہے ہیں اور اب تک ان کی کوششوں سے بیرون ممالک میں پھنسے 45  سے زیادہ لوگوں کی وطن واپسی ہو سکی ہے۔ سید عابد حسین کہتے ہیں کہ پڑھے لکھے نوجوان اپنا خواب پورا کرنے کے لئے بیرونی ممالک میں ملازمت کے لئے جاتے ہیں ، لیکن ایجنٹ اپنے چند روپے کے لئے نہ صرف ان کے ساتھ دھوکہ کرتے ہیں ، بلکہ ان کی زندگیاں تباہ کر دیتے ہیں ۔ میں ایسے ایجنٹوں کی فہرست تیار کررہا ہوں جو ملک کے نوجوانوں کو باہر ملازمت کے نام پر بھیجنے کے ساتھ دھوکہ کرتے ہیں ۔ گوتم راج بھر کے سلسلے میں جو کوشش ایک ہندوستانی کی حیثیت سے کرسکتا تھا ، وہ میں نے کی ہے۔ اللہ نے میری کوشش کامیاب کی اور اس کیلئے وزارت خارجہ اور سعودی عرب میں ہندستانی سفارتخانہ کا خصوصی شکریہ ادا کرتا ہوں۔

گوتم کہتے ہیں کہ وہ ماؤنٹیننگ اور ہائیکنگ کا شوق رکھتے ہیں ۔ اب وطن واپسی کے بعد وہ اپنے خواب کی تکمیل کے لئے یہیں رہ کر محنت کریں گے تاکہ ہمالیہ کی چوٹی کو سر کرسکیں ۔
First published: Feb 21, 2020 10:53 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading